جنگلات کی آگ کے دھوئیں پر ٹرمپ کی کینڈا پر تنقید، مزید محصولات کی دھمکی

جنگلات کی آگ کے دھوئیں پر ٹرمپ کی کینیڈا کو تنقید، مزید محصولات کی دھمکی

اوٹاوا/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے امریکا تک پہنچنے پر کینیڈا کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مزید محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا اپنے جنگلات کا مناسب انتظام نہیں کر رہا، جس کے باعث امریکا کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال سے امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کی لاگت کینیڈین مصنوعات پر پہلے سے عائد محصولات میں شامل کی جا سکتی ہے۔
کینیڈا کے حکام نے امریکی الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلات کی آگ ایک مشترکہ علاقائی مسئلہ ہے جس پر دونوں ممالک تعاون کرتے رہے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر برائے ہنگامی انتظامات نے جنگلات کے تحفظ اور آگ سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کا حوالہ دیا، جبکہ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور خشک موسم جنگلات کی آگ میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکی سیاست دانوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شکایات کرنے کے بجائے تعاون اور مدد فراہم کی جانی چاہیے، کیونکہ کینیڈا ماضی میں امریکا کی قدرتی آفات کے دوران مدد کرتا رہا ہے۔
جنگلات کی آگ کے دھوئیں نے امریکا کے وسطی اور مشرقی حصوں میں کئی ریاستوں کو متاثر کیا، جہاں فضائی معیار کے حوالے سے انتباہات جاری کیے گئے۔ ماہرین صحت نے خاص طور پر سانس کے مریضوں، بزرگوں اور کمزور افراد کو احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔
خلاصہ: جنگلات کی آگ کا دھواں ایک ماحولیاتی مسئلہ بننے کے ساتھ ساتھ کینیڈا اور امریکا کے درمیان سیاسی و تجارتی کشیدگی کا سبب بھی بن گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید