Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا میں رہائشی اسکولوں کی تاریخ سے انکار کو نفرت انگیز تقریر قرار دینے کا مطالبہ، حکومت نے کہا قانون سازی کا جائزہ جاری

کینیڈا میں رہائشی اسکولوں کی تاریخ سے انکار کو نفرت انگیز تقریر قرار دینے کا مطالبہ، حکومت نے کہا قانون سازی کا جائزہ جاری
ہے

کینیڈا میں فرسٹ نیشنز رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی اسکولوں (Residential Schools) کے تاریخی حقائق سے انکار یا انہیں کم اہم ظاہر کرنے کو نفرت انگیز تقریر (ہیٹ اسپیچ) کے قوانین میں شامل کیا جائے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مقامی آبادی کے ماضی کے مسائل اور مفاہمت کے عمل پر بحث جاری ہے۔
فرسٹ نیشنز کے سربراہان نے اسمبلی آف فرسٹ نیشنز کے اجلاس میں ایک ہنگامی قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی اسکولوں کے نظام کی حقیقت کو جھٹلانا متاثرین، ان کے خاندانوں اور مقامی برادریوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کا عمل سچائی کو تسلیم کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
کینیڈا کی وزیر برائے کراؤن-انڈیجینس تعلقات ریبیکا آلٹی نے کہا ہے کہ حکومت رہائشی اسکولوں سے انکار کے معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم حالیہ نفرت مخالف قانون بل سی-9 میں اسے شامل کرنے کے لیے مکمل قانونی جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر وفاقی سطح پر کام جاری ہے اور اس مقصد کے لیے پانچ ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
رہائشی اسکول کینیڈا کی تاریخ کا ایک حساس باب ہیں، جن میں مقامی بچوں کو ان کے خاندانوں اور ثقافت سے الگ کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ فرسٹ نیشنز رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس تاریخ کو مسخ کرنے والی مہمات سے نمٹنے کے لیے سخت قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
تاہم اس معاملے پر آزادیٔ اظہار اور نفرت انگیز مواد کے درمیان حد کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی قانونی کارروائی سے پہلے اس کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید