کینیڈا کے جنگلاتی دھوئیں پر امریکہ کی تشویش

کینیڈا کے جنگلاتی دھوئیں پر امریکہ کی تشویش

، امریکی ارکانِ کانگریس نے مزید اقدامات کا مطالبہ کر دیا

کینیڈا میں جاری شدید جنگلاتی آگ سے اٹھنے والا دھواں سرحد پار امریکہ کے وسیع علاقوں تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد متعدد امریکی ارکانِ کانگریس نے کینیڈا سے جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ دھوئیں کے باعث امریکہ کی کئی ریاستوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور صحت سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار فضائی آلودگی لاکھوں افراد کی صحت، روزمرہ زندگی اور معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خودمختاری کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے، اس لیے کینیڈا کو جنگلاتی آگ کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے مزید وسائل اور حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
دوسری جانب کینیڈین حکام کا مؤقف ہے کہ ملک اس وقت غیر معمولی جنگلاتی آگ، شدید گرمی اور خشک موسم جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ہزاروں فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں، تاہم موسمی حالات کے باعث کئی علاقوں میں آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگلاتی دھواں سانس، دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں، بزرگوں اور بچوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، ضرورت پڑنے پر اعلیٰ معیار کا ماسک استعمال کریں اور گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں۔

قومی خبریں سے مزید