مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونی چاہیے اور اس کی ترقی چند ممالک یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے

مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونی چاہیے اور اس کی ترقی چند ممالک یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے

شی جن پنگ

چین کے صدر شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ کی برتری کو چیلنج کرتے ہوئے چین کو نئے عالمی مصنوعی ذہانت کے نظام کا قائد بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کی مشترکہ دولت ہونی چاہیے اور اس کی ترقی چند ممالک یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس شعبے میں عالمی تعاون اور مشترکہ اصول وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے فوائد تمام ممالک تک یکساں طور پر پہنچ سکیں۔
چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین آئندہ پانچ برسوں میں ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پانچ ہزار تربیتی مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے ایک نئی عالمی تنظیم کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی تعاون، ضابطہ سازی اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام زیادہ سے زیادہ کھلے اور سب کے لیے قابلِ رسائی ہونے چاہییں، تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت پر انسانی نگرانی برقرار رہنی چاہیے اور اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر عالمی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت، جدید برقی چپس اور دیگر اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی قیادت کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے۔ امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت چین پر جدید ٹیکنالوجی کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ چین ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون اور کھلے نظام کے فروغ کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہا ہے

قومی خبریں سے مزید