عراقی وزیر اعظم نے امریکی توانائی سرمایہ کاری کے لیے 60 ارب ڈالر کے منصوبوں کی کوشش تیز کر دی

عراقی وزیر اعظم نے امریکی توانائی سرمایہ کاری کے لیے 60 ارب ڈالر کے منصوبوں کی کوشش تیز کر دی

عراق کے وزیر اعظم نے ملک کے توانائی شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 60 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے، تاکہ تیل اور بجلی کے شعبوں میں موجود مسائل کو حل کیا جا سکے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

عراقی حکومت کی کوشش ہے کہ امریکی کمپنیوں کو توانائی کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جائے، جن میں تیل کی پیداوار میں اضافہ، گیس کے ذخائر کا بہتر استعمال اور بجلی کی فراہمی کے نظام کو جدید بنانا شامل ہے۔

عراق دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن طویل عرصے سے اسے توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، گیس کی کمی اور بجلی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک اب اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی تلاش میں ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سرمایہ کاری سے نہ صرف توانائی کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ملک میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

ماہرین کے مطابق عراق کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی استحکام برقرار رکھتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرے۔ توانائی کا شعبہ عراق کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن ماضی میں سکیورٹی مسائل اور سیاسی اختلافات کے باعث کئی منصوبے تاخیر کا شکار رہے ہیں۔

امریکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی عراقی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں توانائی کے شعبے میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور ممالک اپنی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید