ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے کوونٹری، انفینٹینو کی حکمتِ عملی سے سیکھ سکتی ہیں: سابق آئی او سی عہدیدار

ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے کوونٹری، انفینٹینو کی حکمتِ عملی سے سیکھ سکتی ہیں: سابق آئی او سی عہدیدار

پیرس: سابق اولمپک حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کی سربراہ کرسٹی کوونٹری، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کے انداز سے سبق لے سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انفینٹینو کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے انعقاد میں تعاون کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا، اور اب توجہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کی تیاریوں پر ہے کہ کوونٹری امریکی انتظامیہ کے ساتھ کس طرح تعلقات قائم کرتی ہیں۔
سابق آئی او سی مارکیٹنگ عہدیدار ٹیرنس برنز کا کہنا ہے کہ اولمپکس کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیاسی معاملات کو سنبھالنا ہے، کیونکہ دنیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کی شرکت اور محفوظ داخلہ یقینی بنانے کے لیے حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
برنز کے مطابق کوونٹری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف کسی طاقتور شخصیت کے قریب ہونا کافی نہیں بلکہ ایک مضبوط حکمتِ عملی بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انفینٹینو نے عملی انداز اختیار کیا تاکہ ورلڈ کپ کامیاب ہو سکے، اگرچہ ان کے طریقۂ کار پر تنقید بھی ہوئی۔
سابق آئی او سی مارکیٹنگ سربراہ مائیکل پینے نے کہا کہ کوونٹری کو سابق آئی او سی صدر خوان انتونیو سمارانچ کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے، جنہوں نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے اولمپک تحریک کو مضبوط کیا تھا۔
کرسٹی کوونٹری، جو زمبابوے کی سابق اولمپک تیراک اور سابق وزیرِ کھیل بھی رہ چکی ہیں، 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس سے قبل سیاسی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی عالمی تنظیموں کو سیاسی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے حکومتوں کے ساتھ ضروری سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔

قومی خبریں سے مزید