Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سینیٹ کمیٹی نے سرکاری اور پارلیمانی ملازمین کے پانچ ماہ کی تنخواہوں کے برابر اعزازیے پر سوالات اٹھا دیے

سینیٹ کمیٹی نے سرکاری اور پارلیمانی ملازمین کے پانچ ماہ کی تنخواہوں کے برابر اعزازیے پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ کے موقع پر مختلف سرکاری اور پارلیمانی ملازمین کو پانچ ماہ کی تنخواہوں کے برابر خصوصی اعزازیے (ہوناریئم) کی ادائیگی کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیرِ بحث آیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعزازیے، جو عام تنخواہ کے علاوہ دیے جاتے ہیں، گزشتہ برسوں میں مختلف اداروں تک پھیلتے گئے ہیں، جن میں وزارتِ خزانہ، ریونیو، منصوبہ بندی، وزیرِاعظم آفس، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا عملہ شامل ہے۔
سینیٹ کمیٹی نے بعض اداروں میں اعزازیے کے حقدار ملازمین کی فہرست میں مبینہ غیر ضروری توسیع پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ادائیگیوں کے عمل میں شفافیت اور قواعد کی پابندی ضروری ہے۔
اجلاس میں اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے حکام نے قانونی رائے لینے کی ضرورت کا ذکر کیا، تاہم سینیٹ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹ کو اپنے مالی معاملات کے تعین میں آئینی خودمختاری حاصل ہے۔ کمیٹی نے سینیٹ ملازمین کو اعزازیے کی ادائیگی ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ کے موقع پر دیے جانے والے یہ سالانہ اعزازیے بعض صورتوں میں پانچ سے چھ ماہ کی تنخواہوں کے برابر ہوتے ہیں، جس پر سیاسی اور بیوروکریٹک حلقوں میں بحث جاری ہے۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید