توہینِ مذہب کیس: پوڈکاسٹ میزبان ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد
لاہور کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے پوڈکاسٹ میزبان اور یوٹیوبر ریحان طارق کی توہینِ مذہب اور سائبر کرائم کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر ضمانت دینے کے لیے غیر معمولی رعایت کا کوئی جواز موجود نہیں۔
قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 25 جون کو ریحان طارق کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے ایک مذہبی اسکالر کے ساتھ پوڈکاسٹ میں حساس مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات پر گفتگو کی، جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ بعد ازاں انہیں بیرونِ ملک سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا اور عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
سماعت کے دوران دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے صرف ایک انٹرویو کیا اور سوالات پوچھے، جو صحافتی فرائض اور آئینی آزادیِ اظہار کے دائرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے سوالات قابلِ اعتراض تھے، جبکہ بعض مذہبی علما کی آراء بھی عدالت میں پیش کی گئیں جن کے مطابق ان سوالات میں کسی مقدس شخصیت کی توہین نہیں تھی۔
استغاثہ کے مطابق ریحان طارق کے خلاف پیکا 2016 کی دفعہ 11 (نفرت انگیز مواد) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 153-A، 295-A اور 298 کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔





