پیٹرول ذخائر 14 دن تک محدود، حکومت نے ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے
اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر صرف 14 دن کی ضروریات کے برابر رہ گئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکا۔ایران تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پیٹرول کی طلب میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض درآمدی کارگو میں تاخیر نے سپلائی چین پر مزید دباؤ ڈالا۔
نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے ہنگامی اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریوں، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ عوام کو پیٹرول کی دستیابی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں پیٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً 25 ہزار ٹن ہے جبکہ دستیاب ذخائر 3 لاکھ 45 ہزار ٹن ہیں، جو تقریباً 14 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے ذخائر تقریباً 21 دن کے لیے موجود ہیں اور مقامی ریفائنریاں اس کی طلب پوری کر رہی ہیں۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (اوکاک) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر اور قیمتوں کے فرق (پرائس ڈیفرینشل کلیمز) کی مد میں واجب الادا رقوم کی ادائیگی نہ ہوئی تو بعض علاقوں میں سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر موجود ہیں اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق برقرار رکھا جائے گا۔





