بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اعلیٰ استغاثہ افسر پر جنسی بدسلوکی کے الزامات، دوسری خاتون بھی سامنے آ گئی

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اعلیٰ استغاثہ افسر پر جنسی بدسلوکی کے الزامات، دوسری خاتون بھی سامنے آ گئی

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اعلیٰ استغاثہ افسر کریم خان کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات کے معاملے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دوسری خاتون نے بھی پہلی بار عوامی سطح پر اپنے دعوے بیان کیے ہیں۔

سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، عدالت کی ایک خاتون اہلکار، جنہوں نے اپنی شناخت صرف “سارہ” کے نام سے ظاہر کی، کہا کہ ان کے بقول گزشتہ دو برسوں کے دوران انہیں مسلسل دباؤ اور مبینہ طور پر خاموش کرانے کی کوششوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صورتحال وقت گزرنے کے ساتھ مزید سنگین ہوتی چلی گئی۔

برطانوی وکیل کریم خان، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اعلیٰ استغاثہ افسر ہیں، ان پر اس سے قبل بھی ایک خاتون کی جانب سے جنسی بدسلوکی کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ اب دوسری خاتون کے سامنے آنے سے یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

کریم خان ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب بین الاقوامی فوجداری عدالت دنیا کے مختلف تنازعات سے متعلق حساس تحقیقات میں مصروف ہے، اور اس کے سربراہ پر عائد الزامات ادارے کی ساکھ اور شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ان الزامات کی تاحال باقاعدہ عدالتی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، اور تحقیقات یا متعلقہ کارروائی مکمل ہونے تک الزامات محض دعووں کی حیثیت رکھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید