ایران اور امریکا کے درمیان حملوں میں شدت، تاہم امریکی شہری کی رہائی جنگ بندی کی نئی امید بن گئی

ایران اور امریکا کے درمیان حملوں میں شدت، تاہم امریکی شہری کی رہائی جنگ بندی کی نئی امید بن گئی

ایران اور امریکا کے درمیان ایک ہفتے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی نے اس امکان کو بھی جنم دیا ہے کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہری کی رہائی کو ایران کی جانب سے “خیر سگالی کا اشارہ” قرار دیا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ساحلی علاقوں پر کیے جانے والے حملے آبنائے ہرمز پر اس کے اثر و رسوخ کو ختم نہیں کر سکتے۔

یہ کشیدگی گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، جس کی ابتدا ایرانی حملوں سے ہوئی تھی جن میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

بدھ کے روز امریکا نے گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمت کے بعد پہلی مرتبہ ایک ہی دن میں فضائی حملوں کی دو بڑی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کا زیادہ تر ہدف جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب تنصیبات تھیں۔

رپورٹ کے مطابق جمعرات کو بھی دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری رہا، جس سے گزشتہ ماہ ہونے والی عارضی جنگ بندی تقریباً ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم قیمتیں اب بھی جنگ کے عروج کے دوران دیکھی جانے والی بلند ترین سطح سے نیچے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فوجی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، لیکن امریکی شہری کی رہائی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق مکمل جنگ سے بچنے کے لیے محدود سفارتی رابطوں کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں

قومی خبریں سے مزید