کلکتہ کے ہوائی اڈے میں قائم 136 سال پرانی مسجد، جو جگہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئی

کلکتہ کے ہوائی اڈے میں قائم 136 سال پرانی مسجد، جو جگہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئی

بھارت کے شہر کولکاتا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں قائم ایک 136 سال پرانی مسجد ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ مسجد، جو موجودہ ہوائی اڈے سے بھی قدیم ہے، کئی دہائیوں سے شہری منصوبہ بندی، حفاظتی خدشات اور مذہبی جذبات کے درمیان ایک پیچیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

بینکڑا مسجد، جسے گوری پور جامع مسجد بھی کہا جاتا ہے، اس وقت ہوائی اڈے کے انتہائی حساس عملی علاقے میں واقع ہے۔ برطانوی دور میں جب 1924 میں دم دم فضائی اڈہ قائم کیا گیا تو یہ مسجد پہلے سے موجود تھی۔ وقت کے ساتھ یہی فضائی اڈہ ترقی کرتے ہوئے نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے میں تبدیل ہو گیا، مگر مسجد اپنی جگہ قائم رہی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی موجودگی اب ہوائی سفر کے حفاظتی انتظامات کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ مسجد ہوائی اڈے کے دوسرے رن وے کے قریب واقع ہے، جس کے باعث طیاروں کی آمد و رفت، ہنگامی حالات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق مسجد رن وے سے تقریباً 165 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

گزشتہ برسوں میں مختلف حکومتوں نے مسجد کی منتقلی پر غور کیا، لیکن سیاسی اور سماجی حساسیت کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا۔ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا، مگر عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

قومی خبریں سے مزید