بھارت دنیا کی 20 فیصد ڈیٹا کھپت کرتا ہے مگر عالمی ڈیٹا مراکز میں اس کا حصہ صرف 5 فیصد ہے: رپورٹ

بھارت دنیا کی 20 فیصد ڈیٹا کھپت کرتا ہے مگر عالمی ڈیٹا مراکز میں اس کا حصہ صرف 5 فیصد ہے: رپورٹ

بھارت میں انٹرنیٹ، موبائل فونز اور ڈیجیٹل خدمات کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود ملک کے پاس دنیا کے ڈیٹا مراکز کا حصہ بہت کم ہے۔ امریکی مواصلاتی ٹیکنالوجی کمپنی سائنا (Ciena) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا کے تقریباً 20 فیصد ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے، لیکن عالمی سطح پر موجود ڈیٹا مراکز میں اس کا حصہ صرف 5 فیصد کے قریب ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، آن لائن خدمات، ویڈیو اسٹریمنگ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ڈیٹا کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، تاہم ڈیٹا ذخیرہ کرنے اور اس کی پروسیسنگ کے لیے بنیادی ڈھانچہ اسی رفتار سے ترقی نہیں کر سکا۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں ڈیٹا مراکز کی کمی کی بڑی وجوہات میں بجلی کی مسلسل فراہمی، زمین کی لاگت، توانائی کی کھپت، قواعد و ضوابط اور جدید مواصلاتی ڈھانچے کی ضروریات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے بعد ڈیٹا مراکز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ طاقت اور ذخیرہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھارتی حکومت نے حالیہ برسوں میں ڈیٹا مراکز، سیمی کنڈکٹر صنعت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنی ڈیجیٹل معیشت کے حجم کے مطابق ڈیٹا مراکز کا نیٹ ورک قائم کر لیتا ہے تو وہ عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں ایک اہم مرکز بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید