ایران کے تازہ ترین میزائل اور ڈرون حملے، بحرین، عمان اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات نشانے پر
دبئی / مسقط — ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے بحرین، عمان، کویت، قطر اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خلیجی خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے امریکی فوجی مراکز کو جواباً نشانہ بنایا، جبکہ امریکی حکام کے مطابق حملوں میں بعض تنصیبات، ریڈار نظام اور فوجی سہولیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے کے اڈے اور دیگر فوجی تنصیبات ایران کے اہم اہداف میں شامل رہے۔ بحرین کی جانب سے بھی حملوں کی تصدیق کی گئی اور کہا گیا کہ دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا۔
عمان کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے گرد زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ ایران نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اہم بحری راستوں اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
تازہ صورتحال میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے کھلی رہے گی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی اور ایرانی حملوں کے تبادلے کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی اور مذاکراتی کوششیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔





