موسمیاتی تبدیلی کا خطرناک وار، پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا خدشہ، ٹیکسٹائل صنعت تاریخی بحران کی زد میں
لاہور :پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے، کیونکہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر، بارشوں کی کمی اور پانی کے شدید بحران کے باعث رواں سال کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
زرعی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق شدید گرمی نے کپاس کی فصل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پودے مرجھا گئے ہیں، کیڑوں کے حملے بڑھ گئے ہیں اور پیداوار کے ساتھ ساتھ کپاس کے ریشے کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
خاص طور پر سندھ میں صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جہاں بلند درجہ حرارت، بارشوں کی عدم دستیابی اور نہری پانی کی شدید کمی نے کپاس کی فصل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں کپاس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملک کی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کپاس کی کمی براہ راست دھاگے، کپڑے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کپاس کی آمد میں کمی کے باعث جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملوں کو اپنے یونٹس بند کرنے پڑ رہے ہیں۔ ملک بھر میں کئی صنعتی ادارے خام مال کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
کپاس کی قلت نے مارکیٹ میں قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمت میں فی من تقریباً 400روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد پنجاب میں قیمت 18ہزار 200روپے جبکہ سندھ میں 17 ہزار 700روپے فی من تک پہنچ گئی ہے,کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کو مہنگی کپاس درآمد کرنا پڑے گی، جس سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی لاگت بڑھے گی اور عالمی منڈی میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے
ماحولیاتی بحران کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ مالی دباؤ کا بھی شکار ہے,صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جننگ کے شعبے پر عائد بھاری سیلز ٹیکس کا مسئلہ نئے وفاقی بجٹ میں بھی حل نہیں کیا گیا
رپورٹ کے مطابق سندھ کے اہم کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں بھی صورتحال خراب ہے۔ ٹنڈو آدم جیسے بڑے کپاس مراکز میں بعض جننگ فیکٹریاں کام شروع کرنے کے صرف ایک ماہ بعد ہی بند ہو گئی ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کپاس کے شعبے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں پانی کے بہتر انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی اقسام کی کاشت، زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری اور کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں
اگر کپاس کی پیداوار میں یہ کمی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کی برآمدات، روزگار اور مجموعی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں , یہاں قارئین کو یاد دلانا ضروری ہے پاکستان میں کاٹن کی پیدوار پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے جسکی وجہ ملکی سیاسی فوجی حکمرانوں کی شوگر فیکٹریاں ہیں جو اُنہوں خصوصا ان علاقوں میں لگائیں جہاں پہلے کاٹن پیدا ہوتی تھی مگر کسانوں کو لالچ اور زور زبردستی سے کاٹن کی جگہ گنا اگانے پر مجبور کیا گیا ، پاکستان جو پہلے ہی ڈیڑھ سے دو بلین ڈالر سالانہ کی کپاس امپورٹ کرتا ہے آئندہ ممکن ہے یہ امپورٹ پانچ بلین ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے





