ترسیلات زر کا چیلنج، کیا بیرون ملک پاکستانی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں یا کمزوریوں کو چھپا رہے ہیں؟
اسلام آباد :پاکستان کی طویل مدتی معاشی بقا کا انحصار ایک بنیادی مقصد پر ہے، اور وہ ہے برآمدات پر مبنی مسلسل اقتصادی ترقی۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی برآمدات تقریباً 30ارب ڈالر کے گرد ہی گھوم رہی ہیں، جبکہ درآمدات میں اضافہ جاری ہے۔ اس صورتحال نے ملک کو بیرونی معاشی جھٹکوں اور بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کے لیے حساس بنا دیا ہے
معاشی ماہر شمس الاسلام خان کے مطابق مالی سال 2027 کے بجٹ میں بھی ایسی بنیادی اصلاحات نظر نہیں آتیں جو اس صورتحال کو تبدیل کر سکیں,برآمد کنندگان کو توقع تھی کہ توانائی کے اخراجات کم کیے جائیں گے، حتمی ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے گا اور کاروباری مسابقت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، لیکن بجٹ بڑی حد تک موجودہ نظام کو برقرار رکھتا دکھائی دیتا ہے
اس صورتحال میں ایک دلچسپ تضاد سامنے آیا ہے,ایک طرف پاکستان کی برآمدات طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں، دوسری طرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم نے معیشت کو اہم سہارا دیا ہے
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں ترسیلات زر تاریخی سطح پر پہنچ کر 41ارب 6کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی اشیا کی برآمدات سے بھی زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں اشیا کی برآمدات تقریباً 30ارب 13کروڑ ڈالر رہیں
بیرون ملک پاکستانیوں کی اس غیر معمولی مالی معاونت کو معاشی ماہرین ملک کے لیے ایک بڑی طاقت قرار دیتے ہیں,لاکھوں خاندان ان رقوم سے فائدہ اٹھاتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملتا ہے اور درآمدات کی ادائیگی میں مدد ملتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا بڑھتی ہوئی ترسیلات زر پاکستان کی پیداواری معیشت کو مضبوط کر رہی ہیں یا صرف ان بنیادی کمزوریوں کو چھپا رہی ہیں جن کا تعلق کمزور برآمدات، محدود صنعتی ترقی اور کم مسابقتی کاروباری ماحول سے ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق ترسیلات زر کسی بھی ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں، لیکن یہ مستقل اقتصادی ترقی کا متبادل نہیں بن سکتیں,ایک ملک کی مضبوط معیشت اس وقت بنتی ہے جب وہ زیادہ پیداوار کرے، عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی محنت سے آنے والی رقوم نے فوری بحرانوں سے نمٹنے میں مدد دی ہے، لیکن اس کے باعث بعض اوقات بنیادی معاشی اصلاحات کی فوری ضرورت کا احساس کم ہو جاتا ہے
برآمدی شعبے کو درپیش مسائل میں مہنگی توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام، کم صنعتی پیداوار، تحقیق اور ترقی میں محدود سرمایہ کاری اور عالمی منڈی میں مسابقت کی کمی شامل ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان صرف ترسیلات زر پر انحصار کرتا رہا تو یہ طویل مدت میں خطرناک حکمت عملی ہو سکتی ہے,ضرورت اس بات کی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم کو صرف کھپت کے بجائے سرمایہ کاری، صنعت، برآمدات اور نئی کاروباری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے
پاکستانی معیشت کے لیے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ملک کو بیرونی مدد یا ترسیلات کے بجائے اپنی پیداوار، برآمدات اور انسانی صلاحیتوں کی بنیاد پر مضبوط کیا جائے گا
ترسیلات زر آج پاکستان کے لیے ایک حفاظتی دیوار ضرور ہیں، لیکن پائیدار معاشی مستقبل کے لیے اصل راستہ اب بھی برآمدی ترقی، صنعتی توسیع اور پیداواری اصلاحات ہی ہے





