Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ایران میں جنگ کی واپسی، اسرائیل اور امریکا کے نئے حملوں سے خطے میں کشیدگی پھر عروج پر

تہران — ایران اور امریکا کے درمیان عارضی مفاہمت کے باوجود مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کشیدگی بھڑک اٹھی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کے بعد خطے میں جنگ کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

تازہ حملوں کے بعد واشنگٹن اور تہران ایک بار پھر براہ راست محاذ آرائی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں، میزائل نظام اور خطے میں بحری جہاز رانی کو خطرات سے بچانا ہے، جبکہ ایران نے امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

کشیدگی کا سب سے اہم مرکز آبنائے ہرمز بن گیا ہے، جو دنیا کے توانائی کے نظام کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، جبکہ ایران نے اس کے حوالے سے بندش اور کنٹرول کے دعوے کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کے تبادلے میں خلیجی خطہ بھی متاثر ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کے اتحادی ممالک میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے، جبکہ امریکا نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی۔

اس نئی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں طویل تعطل پیدا ہوا تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی سفارت کاروں کو تشویش ہے کہ تازہ حملے پہلے سے کمزور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکا، ایران اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری تھیں، لیکن فوجی کارروائیوں نے مذاکرات کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک مکمل جنگ اور محدود فوجی تصادم کے درمیان کھڑی ہے۔ اگر حملوں کا دائرہ خلیجی ممالک، توانائی تنصیبات یا بحری راستوں تک مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور ایران دوبارہ کسی سفارتی راستے پر واپس آ سکتے ہیں یا تازہ حملے ایک طویل اور وسیع جنگ کا آغاز ثابت ہوں گے۔

ایران میں جنگ کی واپسی، اسرائیل اور امریکا کے نئے حملوں سے خطے میں کشیدگی پھر عروج پر

تہران — ایران اور امریکا کے درمیان عارضی مفاہمت کے باوجود مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کشیدگی بھڑک اٹھی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کے بعد خطے میں جنگ کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

تازہ حملوں کے بعد واشنگٹن اور تہران ایک بار پھر براہ راست محاذ آرائی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں، میزائل نظام اور خطے میں بحری جہاز رانی کو خطرات سے بچانا ہے، جبکہ ایران نے امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

کشیدگی کا سب سے اہم مرکز آبنائے ہرمز بن گیا ہے، جو دنیا کے توانائی کے نظام کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، جبکہ ایران نے اس کے حوالے سے بندش اور کنٹرول کے دعوے کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کے تبادلے میں خلیجی خطہ بھی متاثر ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کے اتحادی ممالک میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے، جبکہ امریکا نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی۔

اس نئی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں طویل تعطل پیدا ہوا تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی سفارت کاروں کو تشویش ہے کہ تازہ حملے پہلے سے کمزور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکا، ایران اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری تھیں، لیکن فوجی کارروائیوں نے مذاکرات کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک مکمل جنگ اور محدود فوجی تصادم کے درمیان کھڑی ہے۔ اگر حملوں کا دائرہ خلیجی ممالک، توانائی تنصیبات یا بحری راستوں تک مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور ایران دوبارہ کسی سفارتی راستے پر واپس آ سکتے ہیں یا تازہ حملے ایک طویل اور وسیع جنگ کا آغاز ثابت ہوں گے۔

قومی خبریں سے مزید