میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت کی چِپ بنانے کا فیصلہ تیز کر دیا، این ویڈیا پر انحصار کم کرنے کی تیاری
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی خود مختاری بڑھانے کے لیے اپنی تیار کردہ جدید چِپ کی تیاری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے ماہرین عالمی اے آئی جنگ میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میٹا ستمبر 2026 میں اپنی نئی مصنوعی ذہانت کی چِپ “آئرِس” کی پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ چِپ میٹا کے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام، خصوصاً فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارموں کے لیے استعمال کی جائے گی
میٹا کا مقصد یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے درکار مہنگے کمپیوٹنگ نظام میں بیرونی کمپنیوں، خاص طور پر این ویڈیا، پر اپنا انحصار کم کرے اور اپنی ضروریات کے مطابق ہارڈویئر تیار کرے
رپورٹ کے مطابق میٹا مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت کو کئی گنا بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ اپنی چِپس تیار کرنے سے لاگت کم ہو گی اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تیزی سے چلانے میں مدد ملے گی
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اپنی الگ حکمت عملی بنا رہی ہیں۔ گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون اور میٹا سب مصنوعی ذہانت کے لیے اپنی توانائی، ڈیٹا مراکز اور چِپ ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر لگا رہے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی طاقت صرف بہتر سافٹ ویئر بنانے سے نہیں بلکہ اسے چلانے والے طاقتور کمپیوٹر نظام اور خصوصی چِپس پر بھی منحصر ہو گی۔ اسی وجہ سے چِپ بنانے کی صلاحیت اب ٹیکنالوجی کی عالمی طاقت کا نیا میدان بن چکی ہے، مذکورہ خبر کی تیاری میں مندرجہ ذیل میڈیا کی مدد حاصل کی گئی ہے
رائٹرز — میٹا کی مصنوعی ذہانت کی چِپ “آئرِس” کی تیاری اور کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کی رپورٹ۔
مارکیٹ واچ — میٹا کی مصنوعی ذہانت حکمت عملی، اپنی چِپس اور نئے مصنوعی ذہانت ماڈلز پر سرمایہ کاری کا تجزیہ۔
گارجین — مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے اثرات پر رپورٹ
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اگلی جنگ صرف چیٹ بوٹس یا نئے ماڈلز کی نہیں رہی، بلکہ اب اصل مقابلہ اس بات پر ہے کہ کس کمپنی کے پاس سب سے طاقتور چِپس، ڈیٹا مراکز اور توانائی کا نظام موجود ہے۔ میٹا کا یہ قدم این ویڈیا کی موجودہ اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔





