آموں میں لپٹا معاشی انقلاب

آموں میں لپٹا معاشی انقلاب

آفاق فاروقی
دنیا میں کچھ قومیں معیشت بناتی ہیں، کچھ قومیں معیشت کے منصوبے بناتی ہیں، اور کچھ قومیں منصوبوں کی تصویریں بناتی ہیں،پاکستان شاید اس وقت تیسری قسم کی معیشت کے تجربے سے گزر رہا ہے، جہاں برآمدات کے اربوں ڈالر کے خواب فائلوں، سیمیناروں اور تصویری ملاقاتوں میں بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن اصل دنیا میں ان کی رفتار اکثر سائیکل کی رفتار سے بھی کم ہے ، اور سائیکل بھی بچوں کی تین پہیوں والی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جنوری میں دعویٰ تھا کیا کہ پاکستان چار سال میں اپنی برآمدات کو ساٹھ ارب ڈالر تک لے جائے گا،اعلان سننے میں اتنا شاندارتھا اور ایسا لگتا تھا ،جیسے اگلے چند برسوں میں پاکستان کی بندرگاہوں پر کنٹینروں کے بجائے ڈالر کے جہاز اترنے لگیں گے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خواب دیکھنے اور خواب پورا کرنے کے درمیان ایک چھوٹی سی چیز ہوتی ہے جسے حقیقت کہتے ہیں، جو پاکستان میں معشیت کے پسمنظر میں بہت ہی ڈراونی ہے
معاشرتی علوم کے معروف مفکر میکس ویبر، جنہوں نے جدید ریاست، بیوروکریسی اور اقتدار کے ڈھانچوں پر گہرا کام کیا، کہتے تھے کہ ادارے اور منظم طریقہ کار کسی بھی ریاست کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ماہر عمرانیات پیئر بوردیو نے بتایا تھا کہ معاشروں میں طاقت صرف عہدوں دعووں سے نہیں بلکہ سماجی تعلقات، نیٹ ورک اور اثر و رسوخ سے بھی بنتی ہے۔ پاکستان میں شاید مسئلہ یہی ہے کہ نیٹ ورکنگ اور رسوخ بھی معاشی فنکاروں سے ہی مضبوط ہیں، مگر ادارے وہ کمزور دکھائی دیتے ہیں
ساٹھ ارب ڈالر کے ہدف کا اعلان ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں،وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا برآمدات کے لیے کوئی نئی صنعتی حکمت عملی، نئی ٹیکنالوجی، نئی مارکیٹ یا کوئی بڑی سرمایہ کاری نظر آ رہی ہے؟ یا پھر منصوبہ بندی کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ بیرون ملک جائیں، چند تصاویر بنائیں، چند دیسی تقاریب میں شرکت کریں اور اپنی ٹیوٹر ، مطلب ایکس کی وال بھر دیں اور واپس آ کر کہیں کہ دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے؟ اور پاکستان انکے کندھے پر بیٹھا ہے
وزیر منصوبہ بندی کے حالیہ دورہ امریکہ نے بھی ایک دلچسپ منظر پیش کیا،ایک طرف ساٹھ ارب ڈالر کی برآمدات کا خواب ،دوسری طرف امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے درمیان وہی مخصوص روائتی چہروں سے ملاقاتیں عشائیے اور تقریبات کا سلسلہ ہے،کبھی ڈاکٹروں کے ساتھ ملاقاتیں، کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھکیں، کبھی کچھ کمیونٹی شخصیات کے ساتھ تصاویر، تو کانگریس سے فارغ ہونے والے بیچارے الگرین جو پاکستانی کمیونٹی میں فیض کے اس مصرعے کی زندہ تصویر بنے دکھای دیتے ہیں
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
سوال یہ ہے کہ کیا عالمی معیشت اسی طرح چلتی ہے؟ کیا برآمدات تصویروں کے البم سے نکلتی ہیں؟
پاکستانی حکمرانوں کے بیرون ملک دورے ایک پرانا مسئلہ ہے، ہر حکومت کے دور میں چند مخصوص لوگ اچانک بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ وہی چہرے، وہی ملاقاتیں، وہی کاروباری فورمز، وہی دعوے کہ “ہم پاکستان کے لیے سرمایہ کاری لے کر آئیں گے”،لیکن برسوں سے سوال وہی ہے کہ آخر وہ بڑی سرمایہ کاری کہاں ہے؟ وہ بڑی صنعتیں کہاں ہیں؟ وہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کہاں ہے؟
کبھی کسی فارم ہاؤس کا دورہ خبر بن جاتا ہے، کبھی کسی کمیونٹی تقریب کی تصویر، تو کبھی جعلی جھوٹا بزنس فورم ، ایسا لگتا ہے جیسے سفارتی کامیابی کا نیا پیمانہ یہ بن گیا ہے کہ استقبال کتنا شاندار تھا، کھانا کتنا اچھا تھا اور تصویر میں کتنے لوگ کھڑے تھے
اب آموں کی بات بھی سن لیجیے۔ ہیوسٹن میں پاکستانی آموں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے ، بلاشبہ آم پارٹیوں اور ثقافتی تقریبات کا اپنا ایک مقام ہے۔ آم واقعی پاکستان کی ایک شاندار پیداوار ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آموں کے ذریعے ساٹھ ارب ڈالر کی برآمدات کا خواب پورا ہوگا؟
امریکہ کی مارکیٹ میں بھارت پہلے ہی اپنے زرعی برانڈز، سپلائی چین، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے مضبوط مقام بنا چکا ہے،پاکستانی آم ذائقے میں بلاشبہ اپنا ایک خاص مقام و رتبہ رکھتے ہیں، لیکن عالمی تجارت صرف ذائقے سے نہیں چلتی، تجارت کے لیے معیار، مستقل سپلائی، جدید پیکیجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹ تک رسائی چاہیے، جس کا ثبوت گزشتہ دنوں وال اسٹریٹ جنرل جیسے اخبار میں بھارتی آم کی شان میں قصیدہ گوی ہے کہ جہاں یوں لکھا گیا بھارتی آم بنا امریکی گرمیوں میں بمشکل تمام زندہ رہ پاتے ہیں، اور پاکستانی آم قصے کا کہیں حصہ ہی نہ تھا کہ بھارتی آم چند مخصوص امریکن بھارتیوں کے ساتھ تصویروں میں نہیں بلکہ امریکہ کے بڑے فوڈ تاجروں کمپنیوں کی تقریبات سے گوداموں تک دکھایا اور رکھا جاتا ہے
پاکستانی سیاست میں ایک دلچسپ روایت یہ بھی رہی ہے کہ ہر نئے وزیر کے پاس برآمدات بڑھانے کا ایک تاریخی منصوبہ ہوتا ہے،کچھ عرصہ پہلے سابق نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز جو صرف تین ماہ کے لیے وزیر بنے مگر انکے بڑے دعوے، الاماں الحفیظ کہ پاکستان پانچ سال میں برآمدات کو سو ارب ڈالر تک لے جائے گا، سوال یہ ہے کہ اگر ہر دور میں ہدف آسمان تک پہنچ جاتے ہیں تو زمینی حقیقت اتنی نیچے پاتال میں کیوں رہ جاتی ہے یا گھُس جاتی ہے ؟
اصل مسئلہ آم نہیں، اصل مسئلہ سوچ ہے، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقاتیں کیوں ہوتی ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان ملاقاتوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، کیا کوئی بڑی سرمایہ کاری آتی ہے؟ کیا کوئی نئی صنعت لگتی ہے؟ کیا پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہوتا ہے؟
اگر بیرون ملک پاکستانی صرف تصویروں، اعزازات اور تقریبات تک محدود رہ جائیں تو یہ قومی معیشت کے لیے کافی نہیں، دنیا کے ممالک اپنے تارکین وطن کو سرمایہ، علم، ٹیکنالوجی اور کاروباری رابطوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، پاکستان کو بھی یہی کرنا ہوگا، اور اس کے لیے ضروری ہے تاجروں اور فنکاروں میں فرق جان کر آگے بڑھنا ہوگا ، منصوبہ بندی کرنا ہوگی
ساٹھ ارب ڈالر کا خواب برا نہیں،خواب قوموں کو آگے بڑھاتے ہیں،لیکن خواب اس وقت خطرناک بن جاتے ہیں جب انہیں حقیقت سمجھ لیا جائے،اگر منصوبہ بندی صرف تقریروں، عشائیوں اور تصویروں تک محدود رہی تو پھر شاید مستقبل میں پاکستان کی برآمدات کا سب سے بڑا شعبہ “وعدوں کی برآمد” ہوگا
اور اس شعبے میں پاکستان واقعی ابھی تک عالمی نمبر ایک ہے

قومی خبریں سے مزید