دریائے سندھ کے پانی کا پہلا بڑا بحران، 1948 میں نہر کی بندش سے پاکستان میں خوف پھیلا؛ نہرو نے اقدام کو غیر انسانی قرار دیا
تقسیمِ ہند کے فوراً بعد 1948 میں دریائے سندھ کے پانی کا تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر گیا تھا، جب مشرقی پنجاب کی حکومت نے بالائی باری دوآب نہر کے ہیڈ ورکس سے پانی کی فراہمی روک دی تھی۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ نہر دریائے سندھ کے آبی نظام کا حصہ تھی اور اس کی بندش نے پاکستان میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی، کیونکہ اس وقت نئی قائم ہونے والی پاکستانی ریاست کی زرعی معیشت کا بڑا انحصار انہی دریاؤں کے پانی پر تھا
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تقریباً آٹھ دہائیاں قبل پیش آیا، جب بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کے پانی کے استعمال پر اختلاف پیدا ہوا،پانی کی بندش کے باعث پاکستان کو فوری طور پر سفارتی سطح پر بھارت سے مذاکرات کرنا پڑے
اس بحران کے نتیجے میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوششیں کیں تاکہ پانی کی فراہمی بحال کی جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے
بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے بھی اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر انسانی قرار دیا تھا،ان کا مؤقف تھا کہ دونوں نئے ممالک کے درمیان بنیادی ضروریات سے متعلق معاملات کو انسانی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے
بعد ازاں دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر طویل مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، جو کئی برس بعد 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدے کی صورت میں سامنے آیا
یہ تاریخی واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ برصغیر میں پانی کا مسئلہ محض زرعی یا ماحولیاتی معاملہ نہیں بلکہ ابتدا ہی سے ایک اہم سفارتی اور اسٹریجک مسئلہ رہا ہے۔ آج بھی دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاملات پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں





