ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ، خامنہ ای کی تدفین کے روز کشیدگی میں اضافہ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب ایران اپنے مقتول رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو سپردِ خاک کر رہا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں ۱۴ افراد ہلاک اور ۷۸ زخمی ہوئے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں میں اس کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں اس نے خلیج میں موجود امریکی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے تین ہفتے قبل طے پانے والی جنگ بندی پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کے مطابق امریکی حملے میں اس کے جوہری بجلی گھر کے بیرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی۔ ان کی ہلاکت ۲۸ فروری کو جنگ کے پہلے روز ہونے والے امریکی فضائی حملے میں ہوئی تھی۔
تدفین کے موقع پر لاکھوں سوگوار شہری سیاہ لباس میں سڑکوں پر موجود تھے۔ خامنہ ای کا جسدِ خاکی ایک ٹرک کے ذریعے آہستہ آہستہ ہجوم سے بھری سڑکوں سے گزارا گیا، جہاں لوگ ایرانی پرچم، مرحوم رہنما کی تصاویر اور انقلابی نعروں پر مبنی سرخ بینر اٹھائے ہوئے تھے۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی برقرار ہے اور فریقین کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے خطے میں واشنگٹن کی اہم دفاعی موجودگی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے





