بھارت میں میزائل اور راکٹ فورس بنانے کی تجویز، دفاعی حلقوں میں اختلافات بڑھ گئے

بھارت میں میزائل اور راکٹ فورس بنانے کی تجویز، دفاعی حلقوں میں اختلافات بڑھ گئے

بھارت اپنی بڑھتی ہوئی میزائل اور راکٹ صلاحیتوں کو منظم کرنے کے لیے ایک الگ اور متحد راکٹ فورس بنانے پر غور کر رہا ہے، تاہم دفاعی اداروں کے اندر اس تجویز پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے پاس اس وقت مختلف اقسام کے میزائل اور راکٹ نظام موجود ہیں، جن میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، طویل فاصلے تک حملہ کرنے والے ہتھیار اور جدید راکٹ نظام شامل ہیں۔ مجوزہ فورس کا مقصد ان تمام صلاحیتوں کو ایک مرکزی کمان کے تحت لانا اور جنگی منصوبہ بندی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

اس تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں میزائل اور راکٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور خطے میں تیزی سے بدلتی دفاعی صورتحال کے باعث بھارت کو ایک ایسی فورس کی ضرورت ہے جو فوری اور مربوط کارروائی کر سکے۔

تاہم دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقے اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئی فورس بنانے سے کمان کے نظام میں پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور موجودہ فوجی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگی کے مسائل پیدا ہوں گے۔

بھارتی دفاعی مباحث میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا میزائل اور راکٹ صلاحیتوں کو الگ فورس کے حوالے کیا جائے یا موجودہ بری فوج کے اندر ہی انہیں مزید مضبوط بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق اگر بھارت متحد راکٹ فورس قائم کرتا ہے تو یہ اس کی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ دنیا کی بڑی فوجیں اب روایتی زمینی طاقت کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کو بھی جنگی طاقت کا مرکزی حصہ سمجھ رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید