مغربی یورپ نے تاریخ کا گرم ترین جون ریکارڈ کر لیا، شدید گرمی سے ہزاروں اموات کا خدشہ

مغربی یورپ نے تاریخ کا گرم ترین جون ریکارڈ کر لیا، شدید گرمی سے ہزاروں اموات کا خدشہ

مغربی یورپ نے موسمیاتی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جہاں رواں سال جون کا مہینہ اب تک کا سب سے گرم جون ثابت ہوا۔ شدید گرمی کی لہر نے کئی ہفتوں تک یورپ کو اپنی لپیٹ میں رکھا، جس کے باعث اسکول بند ہوئے، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور ماہرین کے مطابق اس کا تعلق ہزاروں اموات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

کوپرنیکس ارتھ آبزرویشن پروگرام کے نئے اعداد و شمار کے مطابق مغربی یورپ میں جون کے پورے مہینے کے دوران دن اور رات کا اوسط درجہ حرارت ۲۰ اعشاریہ ۷۴ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو تقریباً ۶۹ ڈگری فارن ہائٹ بنتا ہے۔

یہ درجہ حرارت جون ۲۰۲۵ میں قائم کیے گئے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے اور اس مہینے کے تاریخی اوسط سے تین ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بلند ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس، جرمنی اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک نے اپنی تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کا سامنا کیا۔

سمندری درجہ حرارت نے بھی نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ عالمی سطح پر جون کا درجہ حرارت تاریخ کے بلند ترین ریکارڈ سے صرف صفر اعشاریہ صفر ایک ڈگری سینٹی گریڈ کم رہا۔

کوپرنیکس موسمیاتی سروس کی نائب سربراہ سامنتھا برگس نے کہا کہ یہ ریکارڈ اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا کا موسمیاتی نظام مسلسل حرارت جمع کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اس کا نتیجہ زیادہ شدید گرمی کی لہروں، مسلسل گرم سمندروں اور یورپ سمیت دنیا بھر میں انسانوں، قدرتی ماحول اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے، جس کے باعث مستقبل میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے

قومی خبریں سے مزید