مولا کا نیا کارنامہ : بہاولپور میں گونگے بہرے لڑکے سے مبینہ زیادتی، پولیس نے مسجد کے پیش امام کو گرفتار کر لیا
بہاولپور: پنجاب کے ضلع بہاولپور میں پولیس نے ایک مسجد کے پیش امام کو مبینہ طور پر ایک گونگے بہرے کم عمر لڑکے سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جبکہ لودھراں میں بھی ایک لڑکی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بہاولپور کے علاقے سمہ سٹہ میں ایک مقامی مسجد کے پیش امام کو ایک نوجوان گونگے بہرے لڑکے سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
مقدمے کے مدعی مختیار احمد، جو موضع تیلیاں والا کے رہائشی ہیں، نے الزام عائد کیا کہ ملزم، جسے پولیس نے شناخت ظاہر کیے بغیر حراست میں لیا ہے، گزشتہ جمعے کو ان کے بھتیجے کو موٹر سائیکل پر ایک ویران مقام پر لے گیا جہاں مبینہ طور پر زیادتی کی۔
مدعی کے مطابق ملزم کافی عرصے سے لڑکے کو مبینہ طور پر نشانہ بنا رہا تھا اور جرم ظاہر کرنے کی صورت میں اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا تھا۔
پولیس نے درخواست پر مقدمہ نمبر 456/26 درج کر لیا ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 شامل کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ بچے کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دوسرے واقعے میں ضلع لودھراں کے علاقے گلی والا پولیس نے ایک شخص کو ایک لڑکی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور قانونی کارروائی شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائے گی





