پاکستان کا امریکہ سے محصولات میں رعایت کا مطالبہ، دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع
واشنگٹن: پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کا نیا دور جمعرات سے واشنگٹن میں شروع ہو رہا ہے، جس میں درآمدی محصولات میں کمی اور وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدہ اہم موضوعات ہوں گے۔
حکام کے مطابق پاکستان امریکی درآمدی ڈیوٹی میں مزید ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
یہ مذاکرات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2 اپریل 2025 کو بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت اعلان کردہ نئے محصولات کے نظام کے بعد شروع ہونے والے سلسلے کا حصہ ہیں۔ اس پالیسی کے تحت ابتدا میں پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد محصول عائد کیا گیا تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستانی وفد نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں مجوزہ محصول کو کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا۔
موجودہ مذاکرات میں پاکستان کی کوشش ہے کہ اس شرح میں مزید کمی حاصل کی جائے تاکہ پاکستانی مصنوعات امریکی منڈی میں زیادہ مسابقتی رہ سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے امریکی منڈی انتہائی اہم ہے کیونکہ امریکہ پاکستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر مصنوعات کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ دوسری جانب امریکہ بھی خطے میں معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
دو روزہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے تجارتی حکام محصولات، مارکیٹ تک رسائی اور مستقبل کے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر تبادلہ خیال کریں گے





