امریکی فوج کا دعویٰ: ایران میں تازہ حملوں کے دوران 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا
واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے دوران تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرونز کے ذخیرہ کرنے کے مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ نے 8 جولائی کو ایران کے خلاف مزید حملوں کا ایک مرحلہ مکمل کیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور عام شہری ملاحوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا ہدف ایران کی وہ صلاحیتیں تھیں جنہیں واشنگٹن خطے میں بحری نقل و حمل کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری ردعمل یا نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم تہران ماضی میں امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیتا رہا ہے اور اپنی دفاعی کارروائیوں کو خودمختاری کا حق قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل منڈیوں، بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کے امن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے





