چین میں صارف قیمتوں کی رفتار کمزور، لیکن پیداواری مہنگائی تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
بیجنگ: چین کی معیشت میں قیمتوں کے تازہ اعداد و شمار نے ایک ملا جلا منظر پیش کیا ہے، جہاں صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ سست پڑ گیا ہے، جبکہ کارخانوں اور پیداواری شعبے میں مہنگائی میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں صارف قیمت اشاریہ میں سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اضافہ ہوا، جو ماہرینِ معاشیات کی ایک اعشاریہ ایک فیصد کی توقع سے کم تھا۔ مئی میں صارف قیمتوں میں ایک اعشاریہ دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب پیداواری قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کارخانوں سے نکلنے والی مصنوعات کی قیمتوں کا اشاریہ جون میں سالانہ بنیاد پر چار اعشاریہ ایک فیصد بڑھ گیا، جو مئی کے تین اعشاریہ نو فیصد اضافے سے زیادہ ہے اور تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
ماہرین کے مطابق صارف قیمتوں کی کمزور رفتار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین میں گھریلو طلب ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوئی، جبکہ پیداواری قیمتوں میں اضافہ عالمی تجارت، خام مال کی لاگت اور صنعتی شعبے میں تبدیلیوں کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت کو ایک ساتھ دو چیلنجز کا سامنا ہے: ایک طرف صارفین کے اعتماد اور اخراجات میں اضافہ کرنا، اور دوسری طرف صنعتی شعبے میں بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنا۔
یہ اعداد و شمار دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی رفتار پر نظر رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہیں، کیونکہ چین کی طلب اور صنعتی پیداوار عالمی منڈیوں، خاص طور پر اجناس، توانائی اور برآمدی شعبوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے





