آئی سی ای اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے میکسیکن شخص کی ویڈیو دیکھی تو بیٹے کو معلوم ہوا کہ مقتول اس کا اپنا والد تھا
امریکہ میں ایک المناک واقعے نے تارکین وطن برادری میں غم اور سوالات پیدا کر دیے ہیں، جہاں ایک شخص نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک میکسیکن شخص کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص اس کا اپنا والد تھا۔
واقعے کے بعد خاندان کے افراد نے بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں اور انہیں یقین نہیں آ رہا کہ جس شخص کو انہوں نے ویڈیو میں دیکھا، وہ ان کے خاندان کا سربراہ تھا۔
اہل خانہ کے مطابق مقتول ایک محنت کش شخص تھا اور اس کا خاندان کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ فائرنگ کن حالات میں ہوئی اور کیا اہلکاروں کی کارروائی قواعد کے مطابق تھی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں، امیگریشن کارروائیوں اور وفاقی اہلکاروں کے اختیارات پر سیاسی بحث جاری ہے۔
حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات میں شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔
آئی سی ای حکام کی جانب سے ایسے واقعات میں عموماً مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ اہلکار خطرے کی صورت میں دفاعی کارروائی کرتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال کے ہر واقعے کی آزادانہ جانچ ضروری ہے





