امریکہ کے نئے فضائی حملے، ایران کا خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا؛ جنگ بندی کا نازک معاہدہ خطرے میں
دبئی: امریکہ نے جمعرات کی صبح ایران کے خلاف نئے فضائی حملے کیے، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور قطر کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے خلیج فارس میں جنگ بندی کے لیے جاری عارضی معاہدے کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد کیے گئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں نے کمزور جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ دے دیا ہے۔
امریکہ نے بدھ کی صبح ایران کے مختلف فوجی مراکز اور بندرگاہی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی کا پس منظر یہ تھا کہ ایران نے عمان کے ساحل کے قریب کئی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
جمعرات کے حملے پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑے دکھائی دیے۔ بحرین میں، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکزی دفتر قائم ہے، کم از کم دو مرتبہ خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
بحرین، کویت اور قطر میں فوری طور پر کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کویت کی فوج نے کہا کہ وہ آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کارروائی کر رہی ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خطے کے ممالک میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اب خلیجی اتحادی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خلیجی ریاستیں براہ راست جنگی کارروائیوں کا حصہ بنتی ہیں تو یہ تنازع ایک محدود ایران۔امریکہ کشیدگی سے نکل کر پورے خطے کے لیے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے





