رام مندر کے کروڑوں روپے کے اخراجات تحقیق کی زد میں، افتتاحی تقریب سمیت ایک سو چوبیس کروڑ روپے کی جانچ شروع

رام مندر کے کروڑوں روپے کے اخراجات تحقیق کی زد میں، افتتاحی تقریب سمیت ایک سو چوبیس کروڑ روپے کی جانچ شروع

بھارت کے شہر ایودھیا میں قائم رام مندر کے ٹرسٹ کے مالی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والے ایک سو چوبیس کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کی باضابطہ جانچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

تحقیقات کا سب سے اہم پہلو وہ ایک سو تیرہ کروڑ روپے ہیں جو بائیس جنوری دو ہزار چوبیس کو رام للا کی پران پرتشٹھا کی تاریخی تقریب پر خرچ کیے گئے۔ اس تقریب میں ملک بھر سے تقریباً آٹھ ہزار ممتاز شخصیات، مذہبی رہنما، سیاسی قائدین اور دیگر معزز مہمان شریک ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم صرف افتتاحی تقریب ہی نہیں بلکہ دو ہزار پچیس کے مہا کمبھ سے متعلق انتظامات اور نومبر دو ہزار پچیس میں منعقد ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب پر ہونے والے اخراجات کا بھی تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے گزشتہ دو برس کے مالی ریکارڈ، حسابات کی جانچ، ادائیگیوں کے گوشوارے، بل، منظور شدہ اخراجات، محاسبین کے ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تمام رقوم ٹرسٹ کے مقررہ مالی قواعد، ضابطوں اور منظوری کے مطابق خرچ کی گئیں یا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے پر یہ کارروائی ایک جامع مالی جانچ کا حصہ ہے اور ابھی تک کسی مالی بے ضابطگی، خرد برد یا بدعنوانی کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی کسی قسم کی ذمہ داری یا خلاف ورزی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ رام مندر ٹرسٹ اس سے قبل بھی اراضی کی خریداری اور عطیات کے انتظام سے متعلق مختلف تنازعات کی وجہ سے عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع بنتا رہا ہے، تاہم اس تازہ جانچ میں تحقیقاتی ادارے کی توجہ گزشتہ دو برس کے بڑے مالی اخراجات اور ان کی قانونی و انتظامی منظوریوں پر مرکوز ہے

قومی خبریں سے مزید