عالمی کپ سے ایک لاکھ پچاسی ہزار روزگار کی امید تھی، مگر توقعات کے برعکس ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئیں

عالمی کپ سے ایک لاکھ پچاسی ہزار روزگار کی امید تھی، مگر توقعات کے برعکس ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئیں

واشنگٹن: عالمی کپ فٹبال سے معاشی سرگرمیوں اور روزگار میں بڑے اضافے کی امیدیں پوری نہ ہو سکیں، جہاں ابتدائی اندازوں کے برخلاف مہمان نوازی کے شعبے کو نقصان اٹھانا پڑا اور ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی کپ کے انعقاد سے تقریباً ایک لاکھ پچاسی ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن جون کے روزگار کے مایوس کن اعداد و شمار نے ایک مختلف تصویر پیش کی۔

جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث مہمان نوازی سے وابستہ کاروباروں پر دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں اس شعبے نے تقریباً اکسٹھ ہزار ملازمتیں کم کر دیں۔

عالمی کپ کے دوران اگرچہ میدان میں شاندار مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں اور لاکھوں شائقین کی آمد سے کھیلوں کا ماحول گرم ہے، تاہم معیشت پر اس کے فوری اثرات توقعات کے مطابق نظر نہیں آ رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلے عموماً سیاحت، ہوٹلوں، ریستورانوں اور مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، لیکن اس بار عالمی معاشی غیر یقینی، توانائی کی بلند قیمتوں اور سیاسی کشیدگی نے ممکنہ فوائد کو محدود کر دیا ہے۔

یہ صورتحال اس بحث کو دوبارہ جنم دے رہی ہے کہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد کے دعووں کا حقیقت میں کتنا اثر مرتب ہوتا ہے اور آیا یہ فوائد طویل مدت تک برقرار رہتے ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید