حسین سے خامنہ ای تک: مزاحمت کے استعارے

حسین سے خامنہ ای تک: مزاحمت کے استعارے
آفاق فاروقی
تہران کی سڑکوں پر سیاہ لباس پہنے ہوئے ہجوم، آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں پرچم اور دلوں میں ایک ایسا درد جسے صرف سیاست کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا،ایک تابوت ہے جو سفر پر نکلا ہے؛ تہران سے قم، قم سے نجف، نجف سے کربلا ،دو ملکوں کی سرزمین، پانچ شہروں کا راستہ، اور ایک ایسی مذہبی و تاریخی علامت کا سفر جسے اسلامی دنیا میں عقیدت، قربانی اور مزاحمت کی سب سے بڑی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے
ایران کا کہنا ہے کہ اس سات روزہ سوگ کے دوران تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے،سو سے زیادہ ممالک کے وفود اس آخری سفر کا حصہ بنے، اور یہ جنازہ صرف ایک رہنما کی تدفین نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کا اجتماعی اظہار بن گیا ہے جو ابھی ابھی جنگ کے دھوئیں، میزائلوں کے شور اور سیاسی زلزلوں سے گزرا ہے
یہ منظر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے ان لمحوں کی یاد دلاتا ہے جب ایک جنازہ ایک فرد کی موت سے کہیں آگے بڑھ کر ایک نظریے، ایک قوم اور ایک عہد کی علامت بن گیا
علی خامنہ ای کی زندگی میں ان کے حامی انہیں مزاحمت کے محور کے طور پر دیکھتے رہے، جبکہ ان کے مخالفین انہیں ایران کے سخت گیر نظام کی علامت قرار دیتے رہے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ بعض شخصیات اپنی زندگی میں جتنی طاقت رکھتی ہیں، موت کے بعد کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ طاقتور علامت بن جاتی ہیں
یہی سوال آج دنیا کے سامنے کھڑا ہے
کیا علی خامنہ ای ایک طاقتور رہنما کے طور پر رخصت ہوئے ہیں، یا ایک ایسی علامت بن کر ابھرے ہیں جسے آنے والی نسلیں ایک مختلف معنی دیں گی؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے جنازے ہمیشہ صرف غم کے اجتماعات نہیں ہوتے، وہ قوموں کے اجتماعی شعور کے آئینے ہوتے ہیں
جب 1989ء میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انتقال ہوا تو ایران نے تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک دیکھا،لاکھوں نہیں بلکہ اندازوں کے مطابق تقریباً ایک کروڑ افراد ان کے آخری سفر میں شریک ہوئے،اس وقت دنیا کے کئی مبصرین سمجھتے تھے کہ انقلاب کا بانی چلا گیا تو نظام کمزور ہو جائے گا، مگر اس کے برعکس ایرانی ریاست نے خود کو نئے حالات کے مطابق منظم کیا
قاسم سلیمانی کا جنازہ بھی اسی طرح کا لمحہ تھا،ایک فوجی کمانڈر جو امریکہ کے حملے میں مارا گیا، ایران کے اندر ایک علامت بن گیا،اس کی موت نے اسے ایک شخص سے ایک تصور میں تبدیل کر دیا، تاریخ میں جنازے تو مارٹن لوتھر کنگ جونئیر سے نہرو ، گاندھی مینڈیلا تک جانے کتنے اور بھی محفوظ بھی ہیں اور یاد بھی انکا احترام بھی ہے وقار بھی مگر انسانی مزاحمتی تاریخ میں حسین سے علی خامنہ ای تک جب نگاہ ڈالی جائے تو سبق ایک ہی ہے تشدد، ہتھیار زور زبردستی سے انسان سے سانس تو چھینی جاسکتی ہے مگر اسکے نظریے فلسفے اور خیالات کو دفن کرنا ممکن ہی نہیں ہے
یہی وہ مقام ہے جہاں سماجی علوم ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں
جرمن ماہرِ عمرانیات میکس ویبر نے بتایا تھا کہ سیاسی طاقت صرف فوج، دولت یا اداروں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے یقین اور اجتماعی جذبات سے بھی پیدا ہوتی ہے،بعض رہنما اپنی زندگی میں اقتدار رکھتے ہیں، مگر موت کے بعد ان کی یاد ایک نئی طاقت پیدا کر دیتی ہے
فرانسیسی مفکر میشل فوکو کے مطابق طاقت صرف ریاستی عمارتوں میں نہیں رہتی؛ طاقت یادداشت، علامتوں اور کہانیوں میں بھی زندہ رہتی ہے،ایک تصویر، ایک جنازہ، ایک نعرہ اور ایک تاریخی واقعہ کبھی کبھی ایک پوری نسل کے سیاسی شعور کو تشکیل دے دیتا ہے
اب سوال ایران کا ہے
کیا یہ جنازہ ایران کی طاقت کا اظہار ہے یا صرف ایک حکومت کی سیاسی نمائش؟
حقیقت دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے
ایران آج بھی شدید معاشی مشکلات، پابندیوں، مہنگائی اور اندرونی اختلافات کا سامنا کر رہا ہے،ہر وہ شخص جو جنازے میں شریک ہوا، ضروری نہیں کہ وہ حکومت کے ہر فیصلے سے متفق ہو،ایک معاشرہ بیک وقت سوگ بھی منا سکتا ہے اور سوال بھی اٹھا سکتا ہے
لیکن سیاست کا ایک اصول ہے،بیرونی حملہ اکثر اندرونی اختلافات کو کچھ وقت کے لیے پس منظر میں دھکیل دیتا ہے
امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ جنگ ایک بڑے امتحان کی مانند تھی
اگر جنگ کا مقصد ایران کی قیادت کو کمزور کرنا، اس کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں اس کے اثر کو کم کرنا تھا، تو وہ اپنے فوجی اہداف کو کامیابی قرار دے سکتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی قیادت اور اس کے خطرات کو نشانہ بنایا گیا
لیکن جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتی
جنگ کا دوسرا میدان عوام کے ذہن ہیں
امریکہ اور اسرائیل کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے ایران کے نظام کو کمزور کیا، یا ایک ایسی علامت پیدا کر دی جس کے گرد ایک نیا قومی جذبہ جمع ہو سکتا ہے؟
دنیا کی تاریخ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک دشمن نے کسی رہنما کو ختم کیا، مگر اس عمل نے اس رہنما کو ایک سیاسی علامت بنا دیا
یہی وجہ ہے کہ آج مشرق وسطیٰ کے ماہرین صرف یہ نہیں پوچھ رہے کہ ایران نے جنگ میں کتنا نقصان اٹھایا، بلکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایران اس نقصان کو کس سیاسی کہانی میں تبدیل کرتا ہے
علی خامنہ ای کا سب سے بڑا ورثہ شاید ان کی پالیسیاں نہیں بلکہ وہ علامت ہو سکتی ہے جو ان کے جنازے نے پیدا کی ہے
ایک شخص زندہ ہو تو اس کے فیصلوں پر بحث ہوتی ہے۔
ایک شخص مر جائے تو اکثر اس کے گرد کہانیاں بننے لگتی ہیں
اور تاریخ میں کبھی کبھی کہانیاں ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں
امریکہ اور اسرائیل نے شاید ایک جنگی معرکہ جیت لیا ہو، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ جنگ ختم ہونے کے دن نہیں ہوتا۔ تاریخ فیصلہ اس وقت کرتی ہے جب دیکھا جاتا ہے کہ جنگ کے بعد کون سا بیانیہ زندہ رہتا ہے
تہران سے قم، قم سے نجف، نجف سے کربلا تک یہ سفر صرف ایک تابوت کا سفر نہیں
یہ ایک سوال کا سفر ہے
کیا ایک رہنما کی موت کسی نظام کو کمزور کرتی ہے، یا کبھی کبھی اسے ایک ایسی روح دے دیتی ہے جو زندگی میں بھی ممکن نہیں ہوتی؟
اور شاید آنے والی دہائیاں ہی بتائیں گی کہ چھیاسی سالہ علی خامنہ ای تاریخ میں ایک حکمران کے طور پر یاد کیے جائیں گے، یا ایک ایسی علامت کے طور پر جس کی طاقت ان کے آخری سفر کے بعد شروع ہوئی

قومی خبریں سے مزید