ایلون مسک کو عدالت سے بڑا دھچکا، ٹوئٹر سرمایہ کاروں کے مقدمے میں فیصلہ برقرار
سان فرانسسکو: ایک امریکی وفاقی جج نے ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کے سرمایہ کاروں سے متعلق مقدمے میں جیوری کے فیصلے کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد ان پر ممکنہ مالی ذمہ داری کا خطرہ برقرار ہے۔
امریکی ضلعی جج چارلس بریئر نے مسک کی وہ درخواست رد کر دی جس میں انہوں نے جیوری کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کی تھی کہ انہوں نے ٹوئٹر خریداری کے معاہدے کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت کم کرنے کی کوشش کر کے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچایا۔
عدالت نے سرمایہ کاروں کے اجتماعی مقدمے کی حیثیت ختم کرنے کی مسک کی درخواست بھی مسترد کر دی، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مقدمے کے فیصلے سے پہلے کے سود کی درخواست منظور کر لی۔
تاہم جج نے مسک کے ایک متنازع پیغام کے حوالے سے انہیں ذمہ دار قرار نہیں دیا۔
یہ مقدمہ ٹوئٹر کی خریداری کے اس معاہدے سے متعلق ہے جس کی مالیت چوالیس ارب ڈالر تھی۔ سرمایہ کاروں کا مؤقف تھا کہ مسک نے معاہدے سے پیچھے ہٹنے یا دوبارہ مذاکرات کے لیے کمپنی کے حصص کی قیمت کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
اگر مقدمے میں مالی نقصانات کا حتمی تعین سرمایہ کاروں کے حق میں ہوا تو ممکنہ رقم تقریباً دو ارب چھ سو ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے مسک کے لیے قانونی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے





