شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے نوبل امن انعام کی بات: عالمی معیار پر امکانات کا تجزیہ
چین کے سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نوبل امن انعام کا ممکنہ حقدار قرار دینا ایک اہم سیاسی بیان ضرور ہے، لیکن نوبل امن انعام کے اصل معیار کو دیکھا جائے تو اس کے امکانات کا جائزہ بہت محتاط انداز میں کرنا ہوگا
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں تو وہ نوبل امن انعام حاصل کر سکتے ہیں یا دونوں اسے مشترکہ طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ ان کی ذاتی رائے اور خواہش ہے، نوبل کمیٹی کی طرف سے کوئی اشارہ یا فیصلہ نہیں
یہاں یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا نوبل کمیٹی کن چیزوں کو دیکھتی ہے؟
ناروے کی نوبل کمیٹی عام طور پر ایسے افراد کو ترجیح دیتی ہے جنہوں نے
کسی بڑی جنگ کو ختم کیا ہو،
دشمن ممالک کے درمیان تاریخی امن معاہدہ کروایا ہو،
- عالمی سطح پر امن کے لیے غیر معمولی اور ثابت شدہ کردار ادا کیا ہو
مثال کے طور پر Anwar Sadat اور Menachem Begin کو 1978 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے کردار پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا، جبکہ Nelson Mandela اور F. W. de Klerk کو نسلی امتیاز کے خاتمے اور سیاسی مفاہمت پر یہ اعزاز ملا
شہباز شریف اور عاصم منیر کے لیے ممکنہ رکاوٹیں
بین الاقوامی سطح پر کسی بھی پاکستانی رہنما کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ
کیا کوئی ایسا تاریخی امن معاہدہ ہوا جس نے طویل عرصے سے جاری تنازع ختم کیا؟
کیا خطے میں دیرپا امن قائم ہوا؟
کیا عالمی سطح پر ان کی کوششوں کو غیر جانب دار حلقوں نے تسلیم کیا؟
پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات، انسانی حقوق کے سوالات، جمہوری معاملات اور سکیورٹی پالیسیوں پر بین الاقوامی بحث بھی کسی بھی امیدوار کے جائزے میں شامل ہو سکتی ہے
اور کیا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے کا معاملہ بن سکتا ہے صدر ٹرمپ کو بھی مختلف حلقوں نے امن انعام کے لیے زیر بحث لایا ہے، خاص طور پر ان کی سفارتی کوششوں اور بعض بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے،لیکن نوبل کمیٹی عام طور پر کسی مقابلے یا سیاسی توازن کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتی
اگر کسی شخصیت کو انعام ملتا ہے تو فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اس نے امن کے لیے کتنا قابلِ ذکر، ثابت شدہ اور تاریخی کردار ادا کیا، نہ کہ وہ کس سیاسی شخصیت کے مقابلے میں ہے
اس وقت شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے نوبل امن انعام کا امکان نظری طور پر موجود تو ہے، کیونکہ دنیا میں کسی بھی شخص کو نامزد کیا جا سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک بہت بلند معیار کا اعزاز ہے
اگر پاکستان کی قیادت مستقبل میں کوئی ایسا بڑا سفارتی کارنامہ انجام دیتی ہے جس سے جنوبی ایشیا میں مستقل امن قائم ہو، خصوصاً پاکستان، بھارت یا افغانستان جیسے تنازعات میں تاریخی پیش رفت ہو، تو اس دعوے کی بنیاد زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے
فی الحال ڈاکٹر وکٹر گاؤ کا بیان زیادہ تر ایک سفارتی حمایت اور سیاسی خواہش کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ نوبل کمیٹی کے قریب کسی فیصلے کے اشارے کے طور پر





