نیٹو 3.0” کا امتحان: دفاعی اخراجات کے وعدوں پر امریکہ کا دباؤ، یورپ کی عسکری صلاحیت فیصلہ کن موڑ پر

نیٹو 3.0” کا امتحان: دفاعی اخراجات کے وعدوں پر امریکہ کا دباؤ، یورپ کی عسکری صلاحیت فیصلہ کن موڑ پر

ترکی میں ہونے والے آئندہ نیٹو اجلاس کو عالمی سطح پر ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات سے متعلق وعدوں کے عملی نفاذ پر سخت سوالات اٹھائے جائیں گے اور اتحاد کی مستقبل کی سمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ہیگ میں ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک نے 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاعی اخراجات کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں ساڑھے تین فیصد براہِ راست دفاعی ضروریات اور ڈیڑھ فیصد وسیع تر سیکیورٹی اخراجات شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس سال کا اجلاس محض بجٹ وعدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اصل بحث اس بات پر مرکوز ہوگی کہ آیا یورپی ممالک ان مالی وعدوں کو حقیقی فوجی صلاحیت میں تبدیل کرنے کی رفتار برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے وابستہ ماہر اولریکے فرینکے کے مطابق یہ اجلاس نیٹو کو “ذمہ داری کی تقسیم” سے آگے بڑھا کر “ذمہ داری کی منتقلی” کے مرحلے میں لے جا رہا ہے، جہاں اتحاد کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں یورپ کی دفاعی پالیسی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑھتی ہوئی نگرانی اور دباؤ کا بھی سامنا ہے، کیونکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ یورپی ممالک اپنی سیکیورٹی ذمہ داریاں زیادہ تیزی سے خود سنبھالیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس نیٹو کی ساکھ اور مستقبل کی عملی حیثیت کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ بحث بھی جاری ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ یورپی سلامتی میں اپنے کردار کو کس حد تک کم کر سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں یہ اجلاس اس سوال کا جواب تلاش کرے گا کہ آیا بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ واقعی ایک مضبوط عسکری قوت میں تبدیل ہو رہے ہیں یا نہیں، اور کیا یہ اتحاد آنے والے دور میں اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گا

قومی خبریں سے مزید