ادھار کی معاشی سوچ نے پاکستان کو کیا دیا؟ برآمدات کا انجن پالیسیوں کی نذر، ماہرِ معیشت کا بڑا سوال
پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سابق وفاقی سیکریٹری اور ماہرِ معیشت یونس ڈھاگا نے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اپنی ضروریات کے بجائے بیرونی اداروں کے تجویز کردہ معاشی نسخوں پر مسلسل انحصار ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو شدید نقصان پہنچا۔
اپنے تجزیے میں انہوں نے لکھا کہ چند برس پہلے تک پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون برآمدات کے ذریعے ترقی تھا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے، برآمدکنندگان کو رعایتیں دینے اور کم لاگت پر مالی سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔
تاہم ان کے مطابق بار بار کی پالیسی تبدیلیوں نے برآمدکنندگان پر ٹیکس کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھا دیا، جبکہ رعایتی مالی سہولتیں بھی مہنگی کر دی گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ میں ان سخت اقدامات میں جزوی نرمی دراصل اس اعتراف کے مترادف ہے کہ سابقہ پالیسیاں غلط تھیں اور انہی کی وجہ سے برآمدی شعبہ شدید متاثر ہوا۔
یونس ڈھاگا کے مطابق پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں ایک چیز مسلسل برقرار رہی ہے، اور وہ ہے بیرونی معاشی سوچ پر اندھا انحصار۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر چند سال بعد نئی معاشی تجاویز کو اصلاحات کے نام پر نافذ کیا جاتا ہے، مگر ان کے نتائج اکثر ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ انیس سو نوے کی دہائی میں جب پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی تجویز کردہ معاشی اصلاحات اپنانے پر آمادہ کیا گیا، اس وقت فی کس آمدنی کے لحاظ سے پاکستان خطے کے کئی ممالک، جن میں بھارت، بنگلہ دیش، چین اور ویتنام شامل تھے، سے بہتر پوزیشن میں تھا۔ اس کے باوجود یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان کی معیشت ناکام ہے اور اسے بیرونی نسخوں کے مطابق بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں کی بنیاد ملکی حقائق، مقامی صنعت اور قومی مفادات پر رکھے، کیونکہ مسلسل درآمد شدہ معاشی حکمتِ عملیوں نے پائیدار ترقی کے بجائے غیر یقینی صورتِ حال کو جنم دیا ہے





