ریاستی سیاست میں جوڑ توڑ اور وفاداریاں بدلنے کی جنگ شدت اختیار کر گئی
نئی دہلی: بھارت کی مختلف ریاستوں میں سیاسی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ کی ممکنہ وفاداری تبدیلی، دھڑے بندی اور سیاسی جوڑ توڑ کے الزامات نے صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مہاراشٹر میں حکمران اتحاد پر الزام ہے کہ وہ آئینی ترمیمات کے لیے مطلوبہ عددی برتری حاصل کرنے کی غرض سے اپوزیشن ارکان اسمبلی سے رابطے میں ہے۔ اسی دوران اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی انضمام سے متعلق مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس نے سیاسی بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب تمل ناڈو میں ایک نئے سیاسی تنازع نے جنم لیا ہے، جہاں ایک علاقائی جماعت کے نو منتخب رکن اسمبلی پر فلوور ٹیسٹ کے دوران بھاری رشوت کی پیشکش اور ووٹ تبدیل کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے پر پولیس کارروائی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت بیان بازی جاری ہے۔
مغربی بنگال میں بھی سیاسی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جہاں ترنمول کانگریس کے بعض ناراض ارکان نے انتخابی کمیشن سے رجوع کیا ہے جبکہ کچھ ارکان پارلیمنٹ کے حکومتی اتحاد کے قریب جانے کی اطلاعات ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول میں نظریاتی وابستگی کی جگہ عملی مفادات اور عددی سیاست نے لے لی ہے، جس کے باعث ریاستی سطح پر اتحاد اور وفاداریاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اور ملکی سیاست ایک نئے غیر مستحکم دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے





