ٹرمپ کے ایک فون نے ورلڈ کپ ہلا دیا، فیفا نے سرخ کارڈ کی سزا واپس لے لی، دنیا بھر میں ہنگامہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت کے بعد فٹبال کے عالمی کپ میں ایک ایسا تنازع کھڑا ہوگیا ہے جسے کئی مبصرین جدید عالمی کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، امریکی ٹیم کے اہم حملہ آور فولارین بالوگن کو گزشتہ مقابلے میں سرخ کارڈ دکھائے جانے کے بعد اگلا میچ کھیلنے سے معطل کر دیا گیا تھا، کیونکہ عالمی کپ کے قواعد کے تحت سرخ کارڈ پر ایک میچ کی پابندی خودکار طور پر نافذ ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے براہِ راست رابطہ کیا اور کہا کہ انہیں ہر طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ بالوگن کے خلاف فیصلہ غلط تھا، اس لیے اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں انفانٹینو نے دوبارہ رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ پابندی معطل کر دی گئی ہے اور بالوگن بیلجیم کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے کا اہم مقابلہ کھیل سکیں گے
فیفا نے اس فیصلے کے لیے اپنے تادیبی ضابطے کی شق ۲۷ کا حوالہ دیا، جس کے تحت غیر معمولی حالات میں سزا کو مشروط طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تنظیم نے اس غیر معمولی اقدام کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں
اس فیصلے نے فوری طور پر عالمی فٹبال میں شدید ردِعمل پیدا کر دیا۔ بیلجیم کی فٹبال فیڈریشن نے اسے مقابلے کے ضابطوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ اپنے تمام قانونی اور انتظامی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے
ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیاسی اثر و رسوخ کے اس مبینہ واقعے نے کھیل کی غیر جانبداری، فیفا کی خودمختاری اور عالمی مقابلوں کے یکساں قوانین پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ امریکی ٹیم اور اس کے کوچ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رہنماؤں کی مداخلت سے انضباطی فیصلے تبدیل ہونے لگے تو مستقبل میں عالمی کھیلوں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے





