سکھر-حیدرآباد ایم 6 موٹروے منصوبہ پانچ حصوں میں تقسیم، قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بریفنگ
قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ سکھر–حیدرآباد ایم-6 موٹروے منصوبہ پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، اور اس پر کام آئندہ مالی سال میں شروع کرنے کی تیاری ہے۔
کمیٹی اجلاس میں قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) اور وزارتِ مواصلات نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ 306 کلومیٹر طویل ہے اور کراچی تا پشاور موٹروے کوریڈور کا “آخری بڑا خلا” سمجھا جاتا ہے۔
منصوبے کو پانچ حصوں میں یوں تقسیم کیا گیا ہے:
- حیدرآباد تا ٹنڈو آدم
- ٹنڈو آدم تا نوابشاہ
- نوابشاہ تا نوشہرو فیروز
- نوشہرو فیروز تا رانپور
- رانپور تا سکھر
حکام کے مطابق منصوبے کی لاگت بڑھ چکی ہے اور اب اس کی مجموعی مالیت اربوں روپے میں ہے، جبکہ مختلف حصے مختلف مالی ماڈلز کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔ کچھ حصے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت بنیں گے، جبکہ دیگر حصوں کے لیے بین الاقوامی مالی اداروں کی فنانسنگ متوقع ہے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ فنڈنگ اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات مکمل ہونے کے بعد تعمیراتی کام مرحلہ وار شروع کیا جائے گا، اور منصوبہ آئندہ چند سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
یہ منصوبہ سندھ کے جنوبی اور شمالی حصوں کو تیز رفتار شاہراہ کے ذریعے جوڑنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، اور اس سے کراچی–سکھر سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے





