بھارت میں نیوکلیئر حرارت سے ہائیڈروجن پیدا کرنے والا پہلا پلانٹ، صاف توانائی کی سمت اہم پیش رفت
کالپکم: بھارت نے ایک اہم سائنسی اور توانائی کے منصوبے کے تحت دنیا کا پہلا ایسا پلانٹ فعال کیا ہے جو نیوکلیئر ری ایکٹر کی حرارت کو استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروجن تیار کرتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے صرف بجلی سے پیدا کیا جائے۔
یہ پلانٹ بھارتی جوہری مرکز کلپکم میں قائم کیا گیا ہے، جہاں سائنسدانوں نے کاپر-کلورین سائیکل کے ذریعے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرنے کا ایک نیا طریقہ استعمال کیا ہے۔
روایتی طور پر ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، لیکن اس نئے طریقے میں نیوکلیئر ری ایکٹر کی حرارت کو براہِ راست کیمیائی عمل میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت کم اور کارکردگی زیادہ ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گرین ہائیڈروجن کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے چوبیس گھنٹے مسلسل پیداوار ممکن ہے اور کاربن کے اخراج کی مقدار بھی نسبتاً کم رہتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام بڑے پیمانے پر کامیاب ہو گیا تو یہ توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب دنیا صاف اور پائیدار ایندھن کی تلاش میں ہے۔
یہ پیش رفت بھارت کے نیوکلیئر انرجی پروگرام اور جدید کیمیائی انجینئرنگ کے اشتراک کی ایک اہم مثال قرار دی جا رہی ہے، جو مستقبل میں صنعتی اور توانائی کے شعبے کو نئی سمت دے سکتی ہے





