ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پالیسیاں چین کے توانائی نظام کو عالمی بنانے کا سبب بن گئیں
معروف توانائی ماہر انس الحاجی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے غیر ارادی طور پر چین کے توانائی نظام کو زیادہ عالمی، مضبوط اور متنوع بنا دیا ہے۔
الحاجیٰ کے مطابق امریکہ کی پابندیوں، ایران سے متعلق کشیدگی اور خلیجی خطے میں فوجی تنازعات نے چین کو مجبور کیا کہ وہ اپنی توانائی کی درآمدات کے ذرائع کو مزید وسعت دے، طویل مدتی سپلائی معاہدے کرے، مختلف ممالک میں سرمایہ کاری بڑھائے اور اپنی توانائی کی سلامتی کو صرف ایک خطے پر انحصار کرنے کے بجائے عالمی سطح پر پھیلا دے۔
ان کے تجزیے کے اہم نکات یہ ہیں:
- چین نے مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ روس، وسطی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سے بھی تیل اور گیس کی فراہمی کے ذرائع مضبوط کیے۔
- توانائی کی سپلائی میں تنوع نے چین کو ممکنہ پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے مقابلے میں زیادہ لچک فراہم کی۔
- مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود چین نے اپنی توانائی کی درآمدات کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں، طویل المدتی معاہدوں اور سفارتی تعلقات کو وسعت دی۔
- اس عمل کے نتیجے میں چین کا توانائی کا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ عالمی اور کمزور ہونے کے بجائے نسبتاً زیادہ محفوظ ہو گیا۔
الحاجیٰ کا استدلال ہے کہ جن اقدامات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ تھا، ان کے ایک غیر متوقع نتیجے کے طور پر چین نے اپنی توانائی کی حکمتِ عملی کو مزید مستحکم اور بین الاقوامی بنا لیا۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ اناس الحاجیٰ کا تجزیہ اور رائے ہے۔ اس موضوع پر مختلف ماہرین کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، اور اس نتیجے پر عالمی سطح پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے





