ورلڈ کپ میں ایران کے ساتھ سلوک پر تنقید، فیفا کے لیے خطرناک نظیر قرار
ارون، کیلیفورنیا: ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران ایرانی قومی فٹبال ٹیم کے ساتھ کیا گیا سلوک نہ صرف کھیل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ مستقبل کے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے لیے ایک خطرناک مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔
مضمون کے مطابق امریکی حکومت کی ایران کے حوالے سے پالیسیوں کے باعث ایرانی ٹیم کو آخری وقت میں اپنا تربیتی کیمپ تبدیل کرنا پڑا، جبکہ امریکہ میں کھیلے گئے ابتدائی دو میچوں کے دوران ٹیم پر غیر معمولی سکیورٹی اور نقل و حرکت کی سخت پابندیاں بھی عائد رہیں۔
مصنف کا مؤقف ہے کہ اگر FIFA میزبان ممالک کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر شریک ٹیموں کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو اس سے کھیلوں کی غیر جانبداری کا بنیادی اصول متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسی نظیر بن سکتی ہے جس کے بعد مستقبل میں کوئی بھی میزبان ملک اپنی ناپسندیدہ ٹیموں کے خلاف اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا فیفا کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ اگر بین الاقوامی مقابلے سیاسی دباؤ کا شکار ہونے لگیں تو عالمی کھیلوں کے نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ ایک رائے پر مبنی تجزیاتی مضمون (Opinion) ہے، لہٰذا اس میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کے ذاتی تجزیے کی عکاسی کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ متعلقہ اداروں یا تمام فریقوں کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہوں





