امریکا میں بجٹ ایئرلائن ماڈل بحران کا شکار، سستی پروازوں کا “رن وے” ختم ہونے لگا
اشنگٹن: امریکہ میں کم لاگت پروازوں (بجٹ ایئرلائنز) کا ماڈل شدید دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق سستی ایئرلائن انڈسٹری کا روایتی بزنس ماڈل تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی رپورٹ کے مطابق فرنٹیئر ایئرلائنز، بریز ایئرویز اور ایویلو ایئرلائنز جیسے ادارے اگرچہ اسپرٹ ایئرلائنز کی مالی مشکلات اور دیوالیہ پن سے کچھ حد تک فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر کم لاگت ایئرلائنز کا ماڈل مسلسل دباؤ میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بحران کی بڑی وجہ صرف مہنگا فیول نہیں بلکہ امریکی ایوی ایشن مارکیٹ کی ساختی تبدیلیاں ہیں، جہاں بڑی ایئرلائنز اب زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیلٹا ایئر لائنز اور یونائیٹڈ ایئر لائنز جیسی بڑی کمپنیاں اپنے وسیع نیٹ ورک، کارڈ ریوارڈز پروگرامز اور وفادار صارفین کے ذریعے مارکیٹ پر غلبہ حاصل کر رہی ہیں، جس کے باعث چھوٹی بجٹ ایئرلائنز کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مسافروں کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں، جہاں اب زیادہ لوگ صرف سستی ٹکٹ کے بجائے آرام دہ سیٹوں، پریمیم کیبنز اور بہتر سروس کو ترجیح دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپ کے برعکس، امریکہ میں فضائی راستے اکثر طویل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کم لاگت ایئرلائنز کے لیے منافع کمانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ امریکہ میں “سستی پروازوں کا دور” کمزور پڑ رہا ہے اور ایوی ایشن انڈسٹری ایک نئے معاشی ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے





