کاکٹیل ۲: دلکش آغاز کے بعد بے ذائقہ کہانی، شاہد کپور اور کریتی سنون کی چمک بھی فلم کو بچا نہ سکی
فلم ناقد انوج کمار کے مطابق ہومی اڈاجانیا اور لوو رنجن کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “کاکٹیل ۲” ایک ایسا سنیما تجربہ بن کر سامنے آتی ہے جو ابتدا میں تو تاثر چھوڑنے کی کوشش کرتی ہے مگر جلد ہی اپنی توانائی اور اثر کھو بیٹھتی ہے۔
ایک طویل وقفے کے بعد جب ہومی اڈاجانیا ایک بار پھر رومانوی مزاحیہ دنیا میں واپس آتے ہیں تو توقع یہ تھی کہ وہ ناظرین کو ایک تازہ، چمکدار اور جذبات سے بھرپور کہانی پیش کریں گے۔ مگر ناقدین کے مطابق یہ فلم ایک ایسے مشروب کی مانند ہے جس میں خوبصورت پیشکش تو موجود ہے لیکن ذائقہ ماند پڑ چکا ہے۔
شاہد کپور اور کریتی سنون کی فطری دلکشی اور اسکرین پر موجودگی ابتدائی مناظر میں فلم کو کچھ توانائی ضرور دیتی ہے، مگر کہانی کی کمزور گرفت اور غیر متاثر کن تحریر اس چمک کو دیر تک برقرار نہیں رہنے دیتی۔
فلم کے آغاز میں جو رفتار اور رنگینی نظر آتی ہے وہ جلد ہی مدھم پڑ جاتی ہے، اور یوں یہ رومانوی مزاحیہ فلم ایک ایسے تجربے میں بدل جاتی ہے جو انداز اور سجاوٹ کے باوجود جذباتی طور پر ناظر کو جوڑنے میں ناکام رہتی ہے۔
ناقد کے مطابق، چارہ سال بعد دوبارہ اسی برانڈ کو زندہ کرنے کی کوشش ایک یادگار واپسی کے بجائے ایک ہلکی پھلکی اور بے اثر پیشکش ثابت ہوتی ہے، جہاں خیال اور کہانی دونوں اپنی چمک برقرار نہیں رکھ پاتے





