امریکہ ایران پالیسی میں بڑی تبدیلی،واشنگٹن کے اہداف بدلنے لگے

امریکہ ایران پالیسی میں بڑی تبدیلی،واشنگٹن کے اہداف بدلنے لگے

امریکی پالیسی میں ایران کے حوالے سے نمایاں تبدیلی سامنے آ رہی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ابتدائی اہداف اور موجودہ حکمت عملی کے درمیان فرق واضح ہوتا جا رہا ہے۔

ایک تازہ تجزیے کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے بعد صورتِ حال نسبتاً تبدیل ہو چکی ہے، اور اب واشنگٹن کی پالیسی پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور عملی انداز اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں امریکی انتظامیہ کے اہداف زیادہ سخت اور واضح تھے، جن میں ایران پر دباؤ بڑھانا، خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور اتحادی ریاستوں کی پالیسی کو مضبوط کرنا شامل تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق اور علاقائی کشیدگی نے ان اہداف کو نئی شکل دے دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب امریکی حکمت عملی میں کچھ مقاصد کو نرم کیا گیا ہے، جبکہ کچھ معاملات میں عملی سفارت کاری اور براہِ راست مذاکرات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

سی بی ایس نیوز کے تجزیہ کار سَیم وینوگراڈ کے مطابق موجودہ پالیسی کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگی اور سفارتی اہداف وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی حد تک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل اعتماد کا فقدان برقرار ہے، لیکن موجودہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ براہِ راست تصادم کے بجائے کنٹرول شدہ کشیدگی اور محدود مفاہمت کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے۔

تجزیہ کار یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلی مستقل حل کی ضمانت نہیں، بلکہ ایک نازک توازن ہے جو کسی بھی وقت دوبارہ بگڑ سکتا ہ

قومی خبریں سے مزید