پونے میں خود ساختہ ’’روحانی پیشوا‘‘ گرفتار، خاتون پر برسوں جنسی تشدد اور ہراسانی کے سنگین الزامات
پونے: بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں پولیس نے ایک خود ساختہ روحانی پیشوا اور اس کے سات ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر ایک خاتون کے ساتھ برسوں تک جنسی استحصال، تشدد اور سنگین نوعیت کی ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت رادھا موہن مشرا کے نام سے ہوئی ہے، جو خود کو مذہبی و روحانی شخصیت کے طور پر پیش کرتا تھا۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اسے کئی برسوں تک مسلسل جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی رہی۔
تحقیقات کرنے والے افسران کے مطابق اس کیس میں برآمد ہونے والا ڈیجیٹل مواد، سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اور دیگر شواہد تفتیش کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریب ایک زیرِ تعمیر زیرِ زمین سرنگ (ٹنل) بھی دریافت ہوئی ہے، جس کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ کیس کو انتہائی حساس نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کے الزامات کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے جو مذہب یا روحانیت کے نام پر عوام کے اعتماد کا غلط استعمال کرتے ہیں





