بھارت میں ایم بی اے دور کے خاتمے کی بات، چیف اکنامک ایڈوائزر کا تعلیمی نظام کے مستقبل پر بڑا بیان

بھارت میں ایم بی اے دور کے خاتمے کی بات، چیف اکنامک ایڈوائزر کا تعلیمی نظام کے مستقبل پر بڑا بیان

نئی دہلی: بھارت کے چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے کہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو محض روایتی تعلیمی ڈگریوں پر انحصار کرنے کے بجائے عملی مہارتوں اور ایسے ہنر پر توجہ دینی چاہیے جو خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت کے ساتھ کاروباری تعلیم خصوصاً انتظامی ڈگریوں کا روایتی ماڈل اپنی افادیت کھو رہا ہے، اور اب معیشت کو ایسے افرادی قوت کی ضرورت ہے جو تکنیکی مہارت، فنی تربیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں سے لیس ہو۔

ان کے مطابق مستقبل کی ملازمتیں ان افراد کے لیے زیادہ محفوظ ہوں گی جو صرف نظریاتی علم نہیں بلکہ عملی تجربہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور انسانی بصیرت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت تیزی سے روایتی دفتری کاموں کو تبدیل کر رہی ہیں، جس کے باعث تعلیمی ڈھانچے کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے بھارت میں اعلیٰ تعلیم کے ماڈل پر نئی بحث شروع ہو سکتی ہے، جہاں برسوں سے ایم بی اے اور دیگر انتظامی ڈگریاں ایک محفوظ کیریئر راستہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ تاہم بدلتی عالمی معیشت میں اب ہنر پر مبنی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں وہی نوجوان زیادہ کامیاب ہوں گے جو روایتی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مہارت، فنی تربیت اور تخلیقی سوچ کو بھی اپنے کیریئر کا حصہ بنائیں گے۔

یہ بحث اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں دنیا بھر کے تعلیمی ادارے اپنے نصاب کو بدلتے ہوئے معاشی اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید