اے آئی سپرپاور بننے کی قیمت: بھارت میں ڈیٹا سینٹرز کا پانی کا بڑھتا ہوا بحران، 150 ارب لیٹر سالانہ کھپت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو عالمی سطح پر طاقتور بنانے کی کوششوں کے ساتھ ایک نیا ماحولیاتی اور معاشی چیلنج تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جہاں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی سرگرمی پانی کے وسائل پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے۔
بین الاقوامی اور مقامی تحقیقاتی ادارے کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر (سی ای ای ڈبلیو) کے مطابق بھارت کے ڈیٹا سینٹرز نے مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 150 ارب لیٹر پانی استعمال کیا، جو کہ ایک انتہائی بڑا ماحولیاتی بوجھ تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2030 تک یہ استعمال بڑھ کر تقریباً 358 ارب لیٹر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے، جو ملک کے پہلے ہی دباؤ کا شکار آبی وسائل کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیٹا سینٹرز میں بڑی مقدار میں توانائی کے ساتھ ساتھ کولنگ کے لیے پانی بھی استعمال ہوتا ہے، اور جیسے جیسے بھارت میں اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے اس کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت ایک دوہری حقیقت کا سامنا کر رہا ہے—ایک طرف عالمی سطح پر “اے آئی سپرپاور” بننے کی کوششیں، اور دوسری طرف بنیادی قدرتی وسائل خصوصاً پانی اور توانائی پر بڑھتا ہوا دباؤ۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ رجحان صرف تکنیکی ترقی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پالیسی چیلنج بھی ہے، جس میں یہ فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
یوں بھارت کی اے آئی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی یا معیشت تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ترقی کی رفتار اور قدرتی وسائل کی محدودیت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں





