پانچ سال کی جدائی کے بعد آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر: طلاق کی دستاویزات عدالت میں پھاڑ دی گئیں، دہلی کی عدالت میں ٹوٹا ہوا رشتہ اچانک دوبارہ جُڑ گیا

پانچ سال کی جدائی کے بعد آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر: طلاق کی دستاویزات عدالت میں پھاڑ دی گئیں، دہلی کی عدالت میں ٹوٹا ہوا رشتہ اچانک دوبارہ جُڑ گیا

دہلی کی ایک عدالت میں ایک طویل اور تکلیف دہ قانونی جنگ اس وقت ایک غیر متوقع اور جذباتی موڑ پر ختم ہو گئی جب پانچ سال سے طلاق کے مقدمے میں الجھا ایک جوڑا اچانک ایک دوسرے کی طرف لوٹ آیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شِکھا اور سوربھ کی طلاق کی سماعت معمول کے مطابق چل رہی تھی، لیکن کمرۂ عدالت کا ماحول اچانک بدل گیا جب شِکھا نے عدالت میں موجود طلاق کی دستاویزات اپنے ہاتھوں سے پھاڑ دیں اور سب کے سامنے سوربھ کو گلے لگا لیا۔

یہ لمحہ صرف ایک عدالتی کارروائی کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کی خاموش چیخ تھی جو برسوں سے دبائی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس غیر متوقع صلح کی ایک بڑی وجہ وہ وقت تھا جب شِکھا کے والد شدید طبی بحران کا شکار ہوئے تھے۔ اسی مشکل گھڑی میں سوربھ نے اختلافات کے باوجود ان کی مدد کی، اور یہی لمحہ دونوں کے درمیان جمے ہوئے غصے اور فاصلے کو پگھلانے کا سبب بنا۔

عدالت میں موجود افراد کے مطابق جب شِکھا نے کاغذات پھاڑے تو کمرہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا، اور پھر وہ خاموشی آہستہ آہستہ آنسوؤں، احساسِ ندامت اور جذباتی گلے ملنے میں بدل گئی۔

پانچ سال کی قانونی لڑائی، تلخیاں اور علیحدگی کے بعد یہ منظر ایک یاد دہانی بن گیا کہ کبھی کبھی عدالتیں فیصلے کرتی ہیں، مگر دل اپنے فیصلے خود بدل لیتے ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک ازدواجی تنازع کے خاتمے کی کہانی ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسانی رشتے بعض اوقات قانون سے زیادہ مضبوط، اور درد سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں

قومی خبریں سے مزید