بھارت میں آج کا بڑا بحران: خارجہ پالیسی پر سیاسی تصادم، معاشی اور سماجی بحث ایک ہی نکتے پر مرکوز
نئی دہلی میں آج بھارت کی سیاسی فضا کا سب سے بڑا موضوع خارجہ پالیسی اور قومی وقار سے جڑا ہوا ایک تیز تر سیاسی تصادم بن گیا ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے وزیرِاعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی بیرونی دباؤ کے سامنے کمزور دکھائی دے رہی ہے اور قومی وقار کے دفاع میں ناکافی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
یہ سیاسی کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب عالمی سطح پر امریکہ، چین اور یورپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات مختلف محاذوں پر حساس مرحلے میں داخل ہیں۔ کہیں سیکیورٹی اور دفاعی تعاون زیرِ بحث ہے، کہیں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے قواعد، اور کہیں تجارت و سفارتی توازن کے نئے اصول تشکیل پا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ بھارت کے اندر ایک بڑی قومی بحث بن چکی ہے، جس میں حکومت اسے “عملی اور اسٹریٹجک سفارت کاری” قرار دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن اسے “جھکاؤ پر مبنی پالیسی” کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
معاشی حلقے بھی اس سیاسی کشمکش پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد، ٹیکنالوجی شراکت داری اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر اس نوعیت کی غیر یقینی صورتحال کا اثر پڑ سکتا ہے۔
سماجی سطح پر بھی یہ بحث تیزی سے پھیل رہی ہے اور عوامی رائے دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے—ایک طرف وہ لوگ جو بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی طاقت کو اجاگر کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو پالیسی میں توازن اور شفافیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
یوں آج کا بھارت ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں خارجہ پالیسی صرف حکومت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ وہ ملکی سیاست، معاشی توقعات اور سماجی بیانیے کا مشترکہ مرکز بن چکی ہے





